قریب ترین بلیک ہول کے قریب پانی کی موجودگی کا انکشاف
ہماری کہکشاں میں موجود ایک بڑے بلیک ہول کے قریب پانی اور آکسیجن سے بھرپور گرد کی موجودگی کا انکشاف۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی مشاہداتی تصاویر میں ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود ایک بڑے بلیک ہول کے قریب پانی اور آکسیجن سے بھرپور گرد کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ شدید تابکاری اور طاقتور کشش ثقل کے باوجود بلیک ہول کے قریب موجود ستارے کے گرد پانی اور سالماتی مادہ برقرار ہے۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود قوسِ کمان ستارہ ایک کے قریب واقع ستارے آئی آر ایس تھری کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔
یہ ستارہ قوسِ کمان ستارہ ایک سے تقریباً 0.55 نوری سال کے فاصلے پر ہے جب کہ زمین اس بڑے بلیک ہول سے تقریباً 26 ہزار نوری سال دور واقع ہے۔
ماہرین کے مطابق آئی آر ایس تھری اپنی زندگی کے آخری مراحل میں ہے جس کے باعث یہ پھیل رہا ہے، ٹھنڈا ہورہا ہے اور گیس خلا میں خارج کررہا ہے۔
مشاہدات کے دوران ستارے کے گرد موجود گیس اور گرد کے حصار میں آکسیجن سے بھرپور گرد اور پانی کی موجودگی دیکھی گئی۔ ماہرین نے اس مقام پر پہلی مرتبہ پانی کی نشاندہی کی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق کہکشاؤں کے مراکز انتہائی شدید ماحول رکھتے ہیں، اس لیے یہ جاننا اہم ہے کہ ایسے حالات میں ستارے اپنے گرد موجود ماحول کو کس حد تک مادہ فراہم کرتے رہ سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق بلیک ہول کے قریب شدید تابکاری کے باوجود ستارے کے گرد گرد کی تشکیل کا عمل برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ماحول توقع سے زیادہ پائیدار ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے پانی کی دریافت کو خاص طور پر اہم قرار دیا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید تابکاری والے ماحول میں بھی سالماتی مادہ برقرار رہ سکتا ہے۔
سائنس دانوں کہتے ہیں کہ یہ مشاہدات بڑے بلیک ہولز کے گرد موجود غیر معمولی ماحول اور ان کے قریب رہنے والے ستاروں کے رویے کو سمجھنے میں مزید مدد فراہم کریں گے۔

