پاکستان کے فضائی حملوں میں چار شہریوں کی موت: افغان حکومت

398667 1881727656


پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے، جنہیں ’ڈرونز ذخیرہ کرنے اور انہیں پاکستان کی جانب بھیجنے‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ان حملوں میں چار اموات کی تصدیق کی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ’دانستہ، انتہائی درستگی کے حامل، نپے تلے اور متناسب تھے اور انہیں سختی سے ان شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جن کا پاکستان کے خلاف حملوں کی کوششوں سے براہِ راست تعلق تھا۔‘

 عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کو افغان سرزمین سے لانچ کیے گئے ڈرونز کا پتا لگا کر انہیں ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا تھا۔

سرکاری میڈیا نے گذشتہ روز سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مسلح افواج نے افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے آٹھ ڈرونز مار گرائے۔ ان ڈرونز میں سے چار کو طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں جبکہ چار کو کوہاٹ کے قریب پہاڑی سرحدی علاقوں میں مار گرایا گیا تھا۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے پیغام میں بدھ کے ڈرون حملوں سے متعلق کہا: پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے دراندازی کرنے والے تمام ڈرونز کا پتہ لگایا، ان کا تعاقب کیا اور انہیں ان کے متعین اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا، یوں حملے کی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اپنے دفاع کے خودمختار حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغانستان میں 10 ایسے مقامات پر انتہائی درستگی کے ساتھ فضائی اور ڈرون حملے کیے جہاں سے ان ڈرونز کو چلایا جاتا تھا اور انہیں ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ یہ حملے دانستہ، انتہائی درستگی کے حامل، نپے تلے اور متناسب تھے اور انہیں سختی سے ان شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جن کا پاکستان کے خلاف حملوں کی کوششوں سے براہِ راست تعلق تھا۔‘

افغان سرزمین سے پاکستان میں ’ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی دانستہ اور غیر قانونی دراندازی‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اطلاعات نے مزید کہا: ’یہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور جارحیت کا ایک سنگین اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔‘

افغانستان کی حکومت کا موقف

افغانستان میں طالبان حکومت نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے 24 ستمبر کو ایک بار پھر افغان صوبوں قندھار، پکتیا اور خوست میں فضائی حملے کیے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ان میں چار شہری جان سے گئے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ حکومت ان حملوں کو ’تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور جارحیت و جرم کا واضح اقدام قرار دیتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

طالبان حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے اندرونی مسائل سے نمٹنے میں ناکامی کا جواز فراہم کرنے کی کوشش میں ایک بار پھر افغان سرزمین پر فضائی حملہ کیا۔‘

افغانستان میں عسکریت پسندوں کی موجودگی پر پاکستان کی تشویش

پاکستان متعدد مواقع پر افغان طالبان سے کہہ چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو عسکریت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکے، جو سرحد پار حملے کرتے ہیں، جن کے نتیجے میں سینکڑوں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری جان سے جا چکے ہیں، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

رواں ہفتے پیر کو پاکستانی لڑاکا طیاروں نے مشرقی افغانستان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا تھا، جنہیں اسلام آباد نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے قرار دیا تھا۔

اسی طرح رواں ماہ کے آغاز میں بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 15 عسکریت پسندوں کو مار دیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں ملکوں کے درمیان تازہ کشیدگی سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان پائیدار امن کے لیے ثالثی کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے پیغام میں مزید کہا: ’پاکستان برسوں سے افغان طالبان حکومت اور اس کے متعلقہ حلقوں کو افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کی مسلسل موجودگی کے حوالے سے اپنے سنگین تحفظات سے بارہا آگاہ کرتا رہا ہے۔ ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کے بجائے، افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف جارحانہ ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورتِ حال کو مزید کشیدہ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے حملوں کو، خواہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا خود افغان طالبان حکومت کی طرف سے، نہ قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا۔ پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ افغان طالبان کی دھمکیاں، تردیدیں یا ذمہ داری سے بچنے کی کوششیں نہ حقائق کو تبدیل کر سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے علاقے، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کے پاکستان کے فطری حق کو محدود کر سکتی ہیں۔‘

وزیر اطلاعات نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’وہ پاکستان کے خلاف تمام معاندانہ سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مسلسل کارروائی کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘

آخر میں پاکستان کی کشیدگی میں اضافے سے گریز کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے مزید کہا: ’پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جانوں کا پورے عزم کے ساتھ دفاع کرے گا اور ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز اقدام کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ