نیتن یاہو نے احتجاج اور حفاظتی انتباہ کے درمیان اپنا امریکہ دورہ مختصر کیا

netan yahu inn d


نیویارک — اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے نیویارک کے اپنے آنے والے دورے کو صرف چند گھنٹوں تک محدود کر دیا ہے اور رات قیام نہیں کریں گے۔ چینل ۱۳ کے مطابق، سیکیورٹی حکام نے حالیہ اعلیٰ سطحی جائزوں کے بعد امریکہ میں قیام بڑھانے کے خلاف مشورہ دیا — جن جائزوں میں وزیر اعظم نے خود شرکت کی۔ بریفنگ میں مخصوص انٹیلیجنس وارننگز شامل تھیں، تاہم حکام نے خطرات کی نوعیت ظاہر نہیں کی۔
نظرثانی شدہ شیڈول کے تحت نیتن یاہو بدھ کو دیر سے اسرائیل سے روانہ ہوں گے، جمعرات کی صبح نیویارک پہنچیں گے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۱ ویں اجلاس سے خطاب کریں گے، اور اسی دن رات رکے بغیر اسرائیل واپس لوٹ جائیں گے۔
یہ برق رفتار دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب نیویارک بھر میں غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج متوقع ہیں۔ واضح رہے کہ آئی سی سی نے نومبر ۲۰۲۴ء میں غزہ میں جنگی جرائم پر نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلانٹ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے، اور پایا تھا کہ غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری ان پر عائد کرنے کی "معقول بنیادیں” موجود ہیں۔
اس دورے میں امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات شامل نہیں، حالانکہ اسرائیلی حکام نے پہلے دو طرفہ بات چیت کے لیے سفارتی کوششیں کی تھیں۔ ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ نیتن یاہو ٹرمپ کی طے شدہ ملاقاتوں کی فہرست میں شامل نہیں۔ ایلون مسک کے ساتھ ٹیکساس میں ملاقات کا منصوبہ بھی اچانک منسوخ کر دیا گیا، حالانکہ اسرائیلی پیشگی سیکیورٹی دستہ موقع پر پہنچ چکا تھا۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بتایا کہ وہ جانچ کر رہی ہیں کہ آیا نیتن یاہو جمعرات کو کینیڈا کی فضائی حدود سے سفر کریں گے۔ آنند نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کینیڈا نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتا ہے، لیکن کہا کہ کینیڈا کا موقف بین الاقوامی عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا ہے۔ واضح رہے کہ کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے گزشتہ اکتوبر کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو کینیڈا میں داخل ہوئے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ