غزہ: اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کی کانفرنس (UNCTAD) کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی معیشت دنیا کی تاریخ کے سب سے شدید بحران میں داخل ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحالی اور تعمیر نو کی ضروریات ۷۱.۵ بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ کام کرنے کی عمر کے ۹۰ فیصد سے زائد افراد بے روزگار ہیں۔
۲۰۲۵ء میں غزہ کی سالانہ فی کس جی ڈی پی صرف ۲۱۲ ڈالر (یومیہ ۰.۵۸ ڈالر) رہی، جو ۲۰۲۲ء کی سطح کا محض ۱۷ فیصد ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیلی کارروائیوں نے ۹۲ فیصد اقتصادی اداروں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا۔ زرعی و صنعتی پیداوار ۹۴ فیصد جبکہ تعمیراتی پیداوار ۹۹ فیصد تک گر گئی۔
لیبر مارکیٹ میں صرف ۱,۲۳,۳۰۰ افراد ملازم رہے۔ قیمتیں ۲۰۲۲ء کے مقابلے ۲۷۴ فیصد بڑھ گئیں — آلو کی قیمت تنازع سے پہلے کے مقابلے ۲۰ گنا زیادہ رہی۔ انفراسٹرکچر کو ۳۵.۲ بلین ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ ۲۲.۷ بلین ڈالر کے اضافی اقتصادی و سماجی نقصانات ہوئے۔
فلسطینی معیشت میں غزہ کا حصہ ۲۰۲۵ء تک ۴ فیصد سے نیچے آ گیا، اور فی کس جی ڈی پی مغربی کنارے کی صرف ۵ فیصد رہ گئی — جو تین دہائیاں قبل تقریباً برابر تھی۔

