ماؤنٹین ویو — گوگل اپنے تجرباتی منصوبے ’’پروجیکٹ سن کیچر‘‘ کے تحت یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ایک تجرباتی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجے گا، جس میں کمپنی کی ۴ Tensor Processing Units (TPUs) نصب ہوں گی۔ یہ سیٹیلائٹ SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کے ذریعے Transporter-18 مشن کے تحت کم زمینی مدار میں پہنچایا جائے گا۔
Planet Labs کے تعاون سے تیار کردہ اس ’’MVP‘‘ سیٹیلائٹ کا مقصد کسی مکمل خلائی ڈیٹا سینٹر کا آغاز نہیں بلکہ یہ جانچنا ہے کہ AI چپس خلا کی تابکاری اور شدید ماحول میں کتنی قابلِ اعتماد کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ حرارت خارج کرنے کی محدود صلاحیت کے باعث TPUs کو ابتدائی طور پر تقریباً ۱۵ منٹ کے وقفوں میں چلایا جائے گا۔
گوگل کا طویل مدتی وژن سورج کی مسلسل دستیاب توانائی سے چلنے والے سیٹیلائٹس کے ایسے نیٹ ورک کا قیام ہے جو لیزر روابط کے ذریعے آپس میں جڑ کر بڑے AI ورک لوڈز چلا سکیں۔ کمپنی کے مطابق ۲۰۲۷ء میں مزید دو سیٹیلائٹس لانچ کیے جائیں گے تاکہ ان کے درمیان ہائی بینڈوتھ لیزر مواصلات کا تجربہ کیا جاسکے۔
ماہرین نے تاہم لانچ لاگت، تابکاری سے تحفظ اور بڑے پیمانے پر مطلوبہ انفرااسٹرکچر جیسے چیلنجز کی نشاندہی کی ہے۔ گوگل کے علاوہ SpaceX اور Starcloud جیسی کمپنیاں بھی خلائی کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر پر کام کررہی ہیں۔ گوگل کے مطابق اس تصور کو عملی تجارتی پروڈکٹ بنانے میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔

