لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کے پہلے سربراہ مقرر

398648 2027829963


پاکستان نے بدھ کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا سربراہ مقرر کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تینوں ممالک علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران سکیورٹی تعاون مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’حکومت پاکستان کو یہ اعلان کرتے ہوئے مسرت ہے کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، ہلال امتیاز (ملٹری) کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’سیکریٹری جنرل سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم کیے جانے والے اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی قیادت کریں گے۔‘

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ہونے والے ایک الگ دو طرفہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد ہوا تھا۔ ان معاہدوں کی مکمل عملی شقیں عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔

نعمان محمود کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے اتحادی یمن کے حوثی باغی یمن میں تنازع کے ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کے دوران سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے مکہ کے قریب محدود فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو روک لیا۔ مکہ میں اسلام کا مقدس ترین مقام واقع ہے۔ حوثیوں نے شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی اس وسیع تر جنگ کا ایک اور محاذ بن گئی ہے جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حوثیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران بحیرہ احمر کے ساحل پر یمن کے ان علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے جو اہم آبنائے باب المندب کے ارد گرد واقع ہیں۔ اس سے بحری جہازوں کی آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جو پہلے ہی آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث متاثر ہیں۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو ہیں؟

پاکستانی فوج کے مطابق نعمان محمود اس سے قبل ملک کے عسکریت پسندی سے متاثرہ شمال مغربی علاقوں میں فوج کی ایک اہم کور کی کمان کر چکے ہیں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث سعودی عرب کے لیے پاکستان کے دفاعی وعدے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس کے تحفظ میں سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر غیر متزلزل طور پر کھڑا ہے۔‘

شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو ایک مضبوط ہوتے ہوئے تزویراتی شراکت داری قرار دیا اور اس سلسلے میں دونوں دفاعی معاہدوں کا حوالہ دیا۔

تاہم انہوں نے فوج کی کسی نئی تعیناتی کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا ریاض نے فوجی مدد طلب کی ہے یا پاکستان اس حوالے سے کیا اقدام کر سکتا ہے۔

شہباز شریف کا یہ بیان منگل کو اقوام متحدہ میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی، تاہم خطے میں جاری وسیع تر بحران کے سفارتی حل پر زور دیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ