وزیراعظم کا یو این جنرل اسمبلی سے خطاب

shehbaz sharif1790359113 0


پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ، ایران امریکا جنگ، کشمیر، فلسطین اور دیگر عالمی ایشوز پر بڑی مدلل اور سیرحاصل گفتگو کی ہے، ایران امریکا جنگ کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات پاکستان کی عملی امن کاوشوں کا مظہر ہیں، پاکستان نے محاذآرائی کے بجائے مکالمے، جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا۔

انھوں نے واضح کیا کہ عالمی اعتماد کی بحالی اور پائیدار امن کے لیے مشرقِ وسطیٰ، کشمیر اور فلسطین سمیت تنازعات کا منصفانہ حل ضروری ہے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ لبنان اور شام پر اسرائیلی جارحیت بند کی جائے، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے، معاشی ترقی، موسمیاتی انصاف اور اقوام متحدہ میں منصفانہ اصلاحات کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قرآن پاک کا پیغامِ امن ہمارے لیے مشعل راہ ہے، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امن کا خواہاں ہے اور جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا، اب جنگ کے خاتمے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ادھر میڈیا نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل سے اہم ملاقات کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں نے مصافحہ کیا اور بیٹھ کر باہمی اور علاقائی امور پر گفتگو کی۔ سعودی عرب پر حوثیوں پر حملے کے تناظر میں اس ملاقات کی اہمیت بڑھ گئی۔

تاحال اس ملاقات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں تاہم دونوں جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایٹمی پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے 7 روزہ پلان پیش کر دیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق نیویارک میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کے ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے معاملات کافی آگے بڑھ چکے ہیں جب کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین بھی معاملات بہتر ہونے کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جو کچھ کہا ہے وہ انتہائی اہم اور بروقت بھی ہے اور اس میں بہت کچھ سچ بیانی ہے جسے امریکا، ایران اور دیگر اقوام نے تسلیم بھی کیا ہے۔ رواں سال فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل نے حملہ کیا تھا۔ اس وجہ سے خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ پر جنگ کے بادل چھا گئے تھے۔

یہ انتہائی نازک حالات تھے۔ ان انتہائی پریشان کن حالات میں پاکستان نے ایک قدم آگے بڑھایا، ایران اور امریکا کو مذاکرات پر آمادہ کیا۔ اس موقع پر یہ قدم اٹھانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ دونوں ملکوں کا اعتماد حاصل کیے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے تھے۔

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے باعث امریکا اور ایران کی قیادت اسلام آباد آئی اور دنیا نے دیکھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں حالات بہتری کی جانب گامزن ہونا شروع ہوئے۔ بلاشبہ اسلام آباد مذاکرا ت کے انعقاد اور اس کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کی قیادت خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں نے اہم کردار ادا کیا۔

عرب ممالک، ترکیے، مصر اور چین نے بھی امن کوشش کی حمایت کی۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی گزرگاہیں ہیں، انھیں کھلا رہنا چاہیے اور تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے، بالکل درست ہے۔ آبی گزرگاہوں کو بند کر کے حالات کو مزید خراب کیا جا سکتا ہے لیکن امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے میں متحارب فریقوں کو عالمی قوانین اور معاہدات کی پاسداری کرنی چاہیے۔

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کیا ہے جو یقینا ایک اعزاز ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران سعودی عرب پر یمن کے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ کھڑا اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے تاہم صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے۔

اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو ،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا، کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے،کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصوابِ رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا،اس کی کوئی حیثیت نہیں، پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے ۔، پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگا، اقوام متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت کے مؤقف نے پاکستان کی اس بات کی تائید کی ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر اور فریقین کے لیے پابند ہے۔

وزیر اعظم کا کہناتھا کہ فلسطینی عوام نسلوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے۔

آزاد فلسطینی ریاست کا قیام لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم نے کہاکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انھوں نے افغان حکام سے اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرنے، فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائن پر سیکریٹری جنرلUNO انتونیو گوتریس سے ملاقات کی،دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا عزم دہرایا،اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان، بالخصوص پاکستان کے قریبی ہمسایہ خطے میں اس کے واقعات سے آگاہ کیا ۔

دونوں رہنماؤں نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں تشویش ناک اضافے پر بھی تبادلہ خیال کیا،انتونیو گوتریس نے تنازعات کے پرامن حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی و ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی خدمات ، قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم کاکہنا تھا کہ یو این سیکریٹری جنرل 6 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے،پاکستان قیام امن کے لیے ماضی کی طرح خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم سے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام اور امریکی پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے مشترکہ وفد سے ملاقات بھی کی ہے۔

حوثی حملوں کے حوالے سے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے سپہ سالاروں کا ہنگامی اجلاس ریاض میں ہوا۔ خطے کے حالات کے تناظر میں یہ اجلاس بھی دوررس اثرات کا حامل ہو گا۔ اجلاس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو شریک ہوئے۔

شرکاء نے مکہ مکرمہ، سعودی شہریوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ نیویارک میںپاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت اجلاس میں شرکت کی۔

ان کڑیوں کو ملایا جائے تو مشرق وسطیٰ کی صورت حال میں مستقبل کا منظرنامہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران ایران کو چینی مدد پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ امریکا تائیوان کے حوالے سے اپنا ’درست مؤقف‘ برقرار رکھے گا۔

عالمی سطح پر ہونے والی ان سرگرمیوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بند ہو جائے گی جب کہ حوثیوں کا تنازع بھی کسی حل کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے حوالے سے جو خطرات اور خدشات درپیش ہیں، وہ بھی دور ہو جائیں گے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ