
(ویب ڈیسک)مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے بعد متاثرہ خاندانوں نے پہاڑیوں میں غار تراش کر رہائش اختیار کرنا شروع کردی ہے، مکانات کی مسماری اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث۲۰۲۶ء میں بھی ہر ماہ سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہو رہے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل کے قریب واقع مسافر یطا کے فلسطینیوں نے اپنے گھروں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مسمار کئے جانے کے بعد پناہ کیلئے پہاڑی ڈھلوانوں میں غار تراشنے کا سہارا لیا ہے، مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
2026 میں کم از کم ۱۲۶۷؍فلسطینی عمارتیں مسمار کی گئیں، اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں، اسرائیلی حقوق کی تنظیم بتسیلم کے مطابق۲۰۰۶ءسے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد یہ کسی ایک سال میں مسمار کی جانے والی عمارتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
مزید پڑھیں:یو این میں وزیراعظم کے فلسطین سے متعلق الفاظ کو فلسطینی مشن نے سوشل میڈیا پر نمایاں کردیا
اسرائیلی حکام عموماً انہدام کے احکامات کی بنیادی وجہ تعمیراتی اجازت نامے کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فلسطینیوں کی ترقی اور تعمیرات کو محدود کرتی ہے اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع میں سہولت فراہم کرتی ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ پالیسی مقبوضہ فلسطینی علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا بھی حصہ ہے، اکتوبر۲۰۲۳ء میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ شروع کئےجانے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں مزید شدت آئی، جہاں ہلاکتوں، گرفتاریوں، مکانات کی مسماری اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع میں اضافہ ہوا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق ۲۰۲۶ءمیں بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور مکانات کی مسماری اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث ہر ماہ سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہو رہے ہیں۔

