بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکن ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی جانب سے کی گئی مبینہ پرتشدد کارروائی کے ویڈیوز سے لیے گئے اسکرین گریب۔ ایک طالبعلم کے بدن پر چاقو سے لگی چوٹ۔
کولکاتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ نے آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم کی میٹنگ کی مخالفت کی تھی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے ان پر حملہ کیا، جس میں کئی طلبہ، اساتذہ اور لائبریرین زخمی ہوگئے۔
کولکاتہ: کولکاتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ(ایس آر ایف ٹی آئی) کے طلبہ پر 27 ستمبر کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے مبینہ طور پر حملہ کیا۔
طلبہ کے مطابق، اس حملے میں آٹھ طلبہ شدید زخمی ہوئے۔ بیچ بچاؤ کی کوشش کرنے والے ایک لائبریرین اور کئی اساتذہ بھی زخمی ہوگئے اور ان کے جسم سے خون بہنے لگا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ 150 سے زیادہ طلبہ کو چوٹیں آئی ہیں۔
کم از کم چار طلبہ کے جسم پر چاقو سے کیے گئے حملے جیسی چوٹیں تھیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، شام تقریباً 7 بجے انسٹی ٹیوٹ کے گیٹ بند کر دیے گئے اور کچھ حملہ آوروں کو کیمپس سے باہر نکال دیا گیا۔
کئی طلبہ کے موبائل فون اور دیگر سامان مبینہ طور پر چھین لیے گئے۔
آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم کی میٹنگ
اتوار کو آر ایس ایس سے وابستہ بتائی جانے والی صارفین میں بیداری پیدا کرنے والی تنظیم ’آل انڈیا گراہک پنچایت‘کے نام سے منعقد ایک میٹنگ فلم انسٹی ٹیوٹ کے مین تھیٹر کے اسٹیج پر شروع ہوئی۔
طلبہ یونین کی صدر بلاسم ہزاریکا نے کہا کہ کسی بھی طالبعلم کو اس میٹنگ کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی اور طلبہ یونین کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سنیما سے غیر متعلق نظر آنے والی اس تنظیم کو وہاں میٹنگ کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

طلبہ کے مطابق، دوپہر تقریباً 2 بجے بی جے پی سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگ وہاں پہنچے اور ہال میں موجود طلبہ کو زبردستی باہر نکالنے لگے۔ انہوں نے طلبہ کو دھکا دیا اور ان کی گردن پکڑ کر انہیں وہاں سے ہٹایا۔
طلبہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں جس طرح کا کام ہوتا ہے، اسے دیکھتے ہوئے بغیر پیشگی اطلاع کے تھیٹر کے اسٹیج پر کوئی میٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔
’وہاں بی جے پی کے کئی اور کارکن پہلے سے انتظار کر رہے تھے‘
واقعہ کے عینی شاہد طالبعلم نیرج کمار نے دی وائر سے کہا،’ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمارے احتجاج کرنے کا انتظار کر رہے تھے۔ چند ہی لمحوں میں ان میں سے ایک گروپ نے بانس کی لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے ہم پر حملہ شروع کر دیا۔ وہ ہمیں طرح طرح کی گالیاں دینے لگے اور ہمیں بائیں بازو کے انتہا پسند، بنگلہ دیشی اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔ اچانک ان میں سے کچھ لوگ باہر گئے اور جیسے ہی انہوں نے آواز لگائی، وہاں پہلے سے انتظار کر رہے بی جے پی کے کئی اور کارکن آ گئے اور انہوں نے ہم پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔‘
کمار نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ بے رحمی سے مارپیٹ کی گئی۔
’انہوں نے طلبہ کو اندھا دھند پیٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے طالبات کے کپڑے کھینچ کر اتارنے کی کوشش کی اور طلبہ کو طرح طرح کی گالیاں دیتے ہوئے انہیں غدار، کاکروچ اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر بلایا۔‘
کمار نے بتایا کہ طلبہ بھاگ کر لائبریری میں چلے گئے، لیکن حملہ آور وہاں بھی ان کے پیچھے پہنچ گئے۔
’اس کے بعد طلبہ نے اپنی جان بچانے کے لیے لائبریری میں پناہ لی۔ وہ وہاں بھی گھس آئے۔ انہوں نے لائبریرین کے ساتھ بھی بے رحمی سے مارپیٹ کی۔‘
کمار کے مطابق، بنگال کی پانچ مہینے پرانی بی جے پی حکومت کے تحت کام کرنے والی پولیس نے طلبہ ہی پر اپنا غصہ اتارا۔
’واقعہ شروع ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پنچسائر پولیس وہاں پہنچی۔ لیکن پولیس کے پہنچتے ہی اس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کے سامنے بی جے پی کارکن اور ان کے حامی ہم پر حملہ کرتے رہے۔ پولیس نے کچھ نہیں کیا۔‘
SRFTI students wrote it on the floor of the institute with their blood after the ABVP rampage. Celebrated film director Pradipta Bhattacharya has taken the picture. pic.twitter.com/ANleXcVrL4
— Aparna (@chhuti_is) September 27, 2026
ایک اور طالب علم اجول رائے نے کہا کہ جو طلبہ شدید زخمی ہوئے تھے، ان پر بھی کئی بار حملہ کیا گیا۔
’شام تقریباً 7 بجے، جب ہم آٹھ زخمی طلبہ کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جا رہے تھے، تب انہوں نے ایمبولینس کو گھیر لیا اور ہم پر دوبارہ حملہ کیا۔ ان کا حملہ پہلے سے منصوبہ بند تھا۔‘
رائے نے بتایا کہ ادارے میں پڑھنے والے کئی طلبہ دوسرے ریاستوں سے ہیں اور ان کے پاس کیمپس سے باہر جا کر کسی محفوظ جگہ پر رہنے کاآپشن نہیں تھا۔
’بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ تنظیمیں ہر اتوار سیاسی بیٹھکیں کر رہی ہیں‘
دی وائر سے بات کرنے والے کئی موجودہ اور سابق طلبہ نے کہا کہ 1995 میں بائیں محاذ کی حکومت کے دور میں قائم کیے گئے اس ادارے میں اس طرح کی سیاسی بیٹھکوں اور تشدد کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
صرف اپنا پہلا نام بتانے والی طالبہ برشٹی نے کہا،’جون سے بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ مختلف تنظیمیں ہر اتوار مرکزی آڈیٹوریم میں سیاسی بیٹھکیں کر رہی ہیں۔ پہلے ایسی کوئی مثال نہیں تھی۔ تمام طلبہ سوال کر رہے ہیں کہ کسی سیاسی جماعت کو اس طرح ادارے کے کیمپس کو استعمال کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔‘
برشٹی نے بتایا کہ مرکزی اسٹیج کے استعمال کو لے کر مسئلہ کیوں تھا۔
’یہاں اتوار کا مطلب چھٹی نہیں ہوتا۔ کئی طلبہ اپنے ہفتے کے آخری دن کااستعمال پریکٹیکل اسائنمنٹ پر کام کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں جب باہر سے سیاسی کارکنوں کا ایک گروپ آتا ہے اور میٹنگ کرتا ہے تو اس سے طلبہ کے کام میں رکاوٹ آتی ہے۔‘
طلبہ یونین نے پنچسائر تھانے میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں واقعہ کی مکمل تفصیلات دیتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دی وائر نے جب ایس آر ایف ٹی آئی کے رجسٹرار دیپک کمار سے واقعہ پر ان کا ردعمل جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے فون کاٹ دیا۔ دی وائر نے تبصرے کے لیے پنچسائر تھانے سے بھی رابطہ کیا ہے۔ دی وائر سے بات چیت کرنے والے ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ اب وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے علاوہ کسی اور افسر کی جانب سے سرکاری بیان آنا غیر معمولی ہے۔ دی وائر اس بات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
’تعلیمی ادارے میں گھس کر ہمارے طلبہ پر حملہ کرنے والے ملک کے دشمن ہیں‘
بنگال کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس حملے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
بنگالی سنیما کے سینئر فلمساز کملیشور مکھرجی نے دی وائر سے کہا،’جن لوگوں کا ٹیلی ویژن، سنیما یا کسی بھی فن کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ سرکاری فلم ادارے میں پروگرام کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ طلبہ کو پیٹ رہے ہیں اور پھر انہی طلبہ کو ملک دشمن قرار دے رہے ہیں؟ یہ لوگ کون ہیں؟ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔‘
بنگالی سنیما کے محقق پروفیسر سنجے مکھوپادھیائے نے کہا،’تعلیمی ادارے میں گھس کر ہمارے طلبہ پر حملہ کرنے والے ملک کے دشمن ہیں۔ یہ شہریوں کے پیسے سے بنایا گیا مرکزی حکومت کا ادارہ ہے۔ کسی سیاسی جماعت کو اسے کرایہ پر استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی جانی چاہیے؟ یہ سب دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ حالات بے حد خراب ہیں۔‘
بائیں بازو کی تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا(ایس ایف آئی)کی ریاستی کمیٹی نے طلبہ پر ہوئے حملے کی مذمت کی ہے اور حملے کے لیے ذمہ دار لوگوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
سی پی آئی (ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن سوجن چکرورتی نے اس واقعہ کو وحشیانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا،’ستیہ جیت رے کے نام پر قائم ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک میں ملک کے مستقبل کے فلمسازوں اور دانشوروں پر حملہ کرکے آر ایس ایس نے دکھا دیا ہے کہ وہ کس طرح کا کلچرچاہتا ہے۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

