ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے اب بھی کام کر رہے ہیں: حکام

398743 930093738


تین حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو پیر کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ثالث دونوں ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ بالواسطہ مذاکرات پیر کو دوبارہ شروع ہوں گے۔

پاکستان اور قطر ایران جنگ کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسائی اور ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کے تحت امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معاشی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک پر محفوظ بحری آمدورفت کی اجازت دینے کی متعدد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اس وقت غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے میں دوبارہ کھولنے کی تازہ تجویز مسترد کر دی ہے۔

اس تجویز میں امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں رعایت دینے سمیت دیگر شرائط شامل تھیں۔

تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں موجود رہے اور کہا کہ وہ ثالثوں (پاکستان اور قطر) کی جانب سے جواب کے منتظر ہیں۔

مجوزہ معاہدے کے تحت پہلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔

پیر کو ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرنے والے دو حکام نے تصدیق کی کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ ایک ایسی تجویز پر کام کر رہے ہیں جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے، جس کے بعد پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔

زیر غور مسودے کے مطابق آبنائے ہرمز کو ایک الگ معاہدے کے تحت دوبارہ کھولا جائے گا جس پر ایران آبنائے کے دوسری جانب واقع ملک عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس میں کسی قسم کا ٹول عائد نہیں کیا جائے گا، جو تہران کا ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔

اس معاہدے کا مقصد جنگ سے پہلے بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھے جانے والے اس راستے پر بحری آمدورفت کو عارضی طور پر منظم کرنا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرنے والے دو حکام نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ کے عوامی بیانات کے باوجود امریکہ نے موجودہ تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

تیسرے اہلکار نے بتایا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے میں مزید رعایتیں چاہتا ہے، جن میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔

جون میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر 60 روز کے دوران بات چیت ہونا تھی، تاہم یہ معاہدہ چند ہی روز میں ختم ہوگیا۔

تینوں حکام نے پس پردہ سفارتی مذاکرات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔

ایک اہلکار نے دونوں فریقوں کی جانب سے مثبت اشارے ملنے کی اطلاع دی، دوسرے نے ہفتے کے اختتام پر ’معمولی پیش رفت‘ کی بات کی جبکہ تیسرے کے مطابق ثالث اب بھی دونوں فریقوں کے مؤقف کو ’نرم کرنے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

ایران کی تازہ تجویز میں تیز رفتار ٹائم لائن

ایران کی تازہ تجویز میں پہلے ہونے والے معاہدے کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار ٹائم لائن پیش کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے ایک بند کمرہ اجلاس میں بتایا تھا کہ تہران نے یہ تجویز اس انداز میں پیش کی ہے کہ اس سے ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

عراقچی نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ ’سات روز کی مدت اس وقت شروع ہوگی جب امریکہ اس منصوبے کو قبول کرے گا۔‘

امریکہ اور ایران دونوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ میں آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے باعث تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات ہیں جبکہ تہران کو بحری ناکہ بندی اور امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا ہے، جن کے باعث ایرانی تیل کی فروخت محدود ہو رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔

کئی ماہ سے دونوں فریق ایک دوسرے سے زیادہ دیر تک مقابلہ جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ خطے کے ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ایران کی بے صبری کی عکاسی کرتے ہوئے پیر کو ایران کی مذہبی حکومت کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک نایاب بیان میں آبنائے ہرمز کے قریب دشمن افواج کو پہنچنے والے ’دردناک وار‘ کا ذکر کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا، ’زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ بحیرہ عرب بھی ان سے پاک ہو جائے گا۔‘

تازہ مجوزہ معاہدے میں ایک بار پھر تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں ایک نیا محاذ سامنے آیا ہے، جہاں ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغی اب بحیرہ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر ایک اور اہم آبی گزرگاہ، آبنائے باب المندب، کے قریب موجود ہیں۔

اس صورت حال نے عالمی منڈیوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ حوثیوں کے اپنے مطالبات ہیں اور پڑوسی ملک سعودی عرب کے ساتھ ان کا تنازع امریکہ اور ایران کی جنگ سے الگ ہے۔

تاہم ایک اہلکار کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کسی تصفیے تک پہنچنے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ