لندن: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورۂ برطانیہ کے دوران بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی، بلیک راک اور روتھ شیلڈ اینڈ کو کے سینئر عہدیداروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں سے پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری ماحول میں عالمی مالیاتی شعبے کی بڑھتی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
بارکلیز کے ہیڈ آف پرائیویٹ بینک اینڈ ویلتھ مینجمنٹ یو کے محمد کمال سید سے ملاقات میں وزیراعظم نے بینک کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا، انہیں معاشی استحکام کے اقدامات پر بریفنگ دی اور پاکستان کے مالیاتی شعبے میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
جے پی مورگن کے وفد سے، جس کی قیادت ای ایم ای اے کے شریک سی ای او میتھیو وِلٹز کر رہے تھے، کیپیٹل مارکیٹس، ٹریڈ فنانس اور انویسٹمنٹ بینکنگ میں شراکت داری بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے ادارے کو پاکستان میں کاروبار وسیع کرنے کی دعوت دی، جبکہ وفد نے سووریئن ڈیٹ کیپیٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ بینکنگ میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔
سٹی کے چیف کلائنٹ آفیسر ڈیوڈ لِوِنگسٹن کی قیادت میں وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان میں بینک کی طویل موجودگی کو سراہا اور کارپوریٹ و ادارہ جاتی بینکنگ خدمات کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کی۔
بلیک راک کے وفد، جس میں ایمرجنگ اینڈ فرنٹیئر مارکیٹس کے شریک سربراہان گورڈن فریزر اور سیم ویخت اور پورٹ فولیو مینیجر ایملی فلیچر شامل تھیں، سے ملاقات میں وزیراعظم نے فرنٹیئر مارکیٹس حکمت عملی کے تحت پاکستانی ایکویٹیز اور فکسڈ انکم میں زیادہ سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ دونوں فریقین نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
روتھ شیلڈ اینڈ کو کی نمائندگی لارڈ مارک سیڈول (چیئر جیو اسٹریٹجک ایڈوائزری) اور مجید اسحاق (ہیڈ آف یو کے انویسٹمنٹ بینکنگ) نے کی۔ ملاقات میں پاکستان کی جیو اکنامک ترجیحات اور کیپیٹل مارکیٹس و سرمایہ کاری حکمت عملی پر مشاورتی تعاون کے امکانات زیر بحث آئے۔
تمام ملاقاتوں میں مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کی اصلاحاتی رفتار پر اعتماد کا اظہار کیا اور ملک کے مالیاتی شعبے کے ساتھ روابط مزید گہرے کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقاتوں میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی بھی موجود تھے۔

