غزہ: نوجوان موجدوں نے خستہ عمارتوں کی جانچ کے لیے روبوٹ بنا لیے

robo 290926 d


غزہ سٹی: جنگ سے تباہ حال غزہ میں نوجوان موجد محدود وسائل کے باوجود ایسے روبوٹ اور آلات بنا رہے ہیں جو خطرناک عمارتوں کی جانچ، معذور افراد کی مدد اور روزمرہ مشکلات کم کرنے میں کام آ سکیں۔
غزہ سٹی میں جاری نوجوانوں کے ہیکاتھون میں 100 سے زائد نوجوان 45 سے زیادہ منصوبے پیش کر رہے ہیں۔ ان میں خستہ عمارتوں کا جائزہ لینے اور بزرگوں کی مدد کرنے والے روبوٹ، اسمارٹ کاشتکاری اور پانی صاف کرنے کے حل شامل ہیں۔ بجلی کی مسلسل کمی اور برقی پرزوں کی قلت کے باوجود شرکا دستیاب تاروں، سینسرز، موٹروں اور برقی تختیوں سے نمونے بنا رہے ہیں۔
عمارتوں کی جانچ کے روبوٹ خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ 16 ستمبر کو غزہ سٹی میں 6 منزلہ السعادہ عمارت منہدم ہو گئی تھی، جس میں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ فلسطینی تنظیم سیف کے مطابق حادثے میں 21 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے۔ غزہ کی متعلقہ وزارت کے مطابق تقریباً 3 ہزار عمارتیں خطرناک یا منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسی عمارتوں میں چھوٹا روبوٹ انسان کے بجائے اندر جا کر ابتدائی جائزہ لے سکتا ہے۔
یہ سرگرمی روبوٹکس کی تعلیم کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ دیر البلح میں "نیکسٹ جن” منصوبے کے تحت بچوں کو سینسرز، موٹرز اور پروگرامنگ سکھائی جا رہی ہے، اور آگ یا گیس کے اخراج سے خبردار کرنے والے نظام بنانے کی مشق کرائی جا رہی ہے۔ 16 سالہ حمزہ الاطراش کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی انہیں رکنے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ نئے حل تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے مئی 2026 میں بتایا تھا کہ غزہ کے 10 اسکولوں میں 100 عارضی تعلیمی مراکز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کے بنائے روبوٹ ابھی ابتدائی نمونے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ