پاکستان فوج نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستانی سابق فوجی محمد آصف عرف ’ہاشم موسیٰ فوجی‘ کو انکاؤنٹر میں مارنے کے دعوے اور کارروائی کو فالس فلیگ قرار دیتے ہوئے سابق فوجی آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انڈین فوج کی چنار کور، انڈین وزارت داخلہ اور انڈین میڈیا کے بیانات پیش کیے جن میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی کارروائی اور پاکستان فوج کے سابق حولدار محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ فوجی کو مارنے کے دعوے کیے گئے تھے۔
انڈین فوج کی چنار کور، انڈین وزارت داخلہ اور انڈین میڈیا نے دعوے کیے تھے کہ کشمیر میں جاری آپریشن کے دوران مبینہ طور پر لشکر طیبہ کے کمانڈر جو پاکستان فوج کے سابق اہلکار محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ مارے گئے ہیں۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’انڈین فوج کی جانب سے ایک اور فالس فلیگ آپریشن سٹیج کیا گیا اور بدھ کو انڈیا کی چنار کور نے اس حوالے سے ٹویٹ بھی کیا۔‘
بعد میں انڈین وزارت داخلہ اور انڈین میڈیا نے سابق پاکستان فوجی محمد آصف کے حوالے سے مزید تفصیلات اور ان کے شناختی کارڈ اور سروس نمبر تک جاری کیے۔
Mohammad Asif alias Hashim Moosa was born on 07 March 1980. He joined the Pakistan Army in 2000 under service number PA-3106947 and retired with the rank of Havildar. In 2005, Mohammad Asif was inducted into the Special Services Group (SSG). He served with 4 Commando “Yalgar”… https://t.co/bQWmFFDuFF pic.twitter.com/dGgtr7fMeI
— ANI (@ANI) September 30, 2026
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس موقع پر سابق فوجی محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جنہوں نے بتایا کہ انہیں گذشتہ روز ان کے دوستوں نے انڈین حکومت اور ان کے میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ وہ کشمیر میں مارے گئے ہیں۔
محمد آصف نے بتایا کہ وہ ایس ایس جی میں بطور حوالدار 2023 میں ریٹائر ہوئے اور بعد میں ایک نجی سکیورٹی گارڈز کمپنی میں نوکری کی اور آج کل خاندان کے ساتھ راول پنڈی میں مقیم ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈین بیانیے کو مکمل طور مسترد کرتے ہوئے اس واقعے کو کا ٹائم لائن کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا نے پہلے اس شخص کو ’نامعلوم‘ قرار دیا، پھر اسے ’محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ‘ کا نام دیا اور بعد میں من گھڑت کہانی بناتے ہوئے اسے پاکستانی فوج اور ایس ایس جی سے جوڑنے کی کوشش کی۔
انڈین دعوے
انڈین فوج کی ’چنار کور‘ نے بدھ کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’جاری آپریشن کے سلسلے میں صبح سویرے جنرل ایریا پلمیدان میں تلاشی کے دوران پاکستان میں موجود کالعدم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ایک مبینہ دہشت گرد کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’لاش کے ساتھ جنگی نوعیت کا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ آپریشن تاحال جاری ہے۔‘
پریس انفارمیشن بیورو آف انڈیا نے بھی بدھ کو جاری بیان میں مارے جانے والے شخص کو سابق پاکستانی فوجی محمد آصف عرف موسیٰ فوجی قرار دیا۔
انہوں نے بیان میں لکھا: انڈین سکیورٹی فورسز کا جموں و کشمیر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی میں لشکر طیبہ کے سینئر کمانڈر موسیٰ عرف آصف فوجی کو مارا ہے۔‘
انڈین میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طور پر مارے جانے والے شخص کا تعلق کالعدم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے تھا اور وہ پاکستان فوج کا اہلکار تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ذرائع‘ سے منسوب اس دعوے میں اس شخص کا نام محمد آصف بتایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ انڈین میڈیا اور حکام ماضی میں اپریل میں پہلگام میں ہونے والے واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کر چکے ہیں، تاہم وہ ان الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ’محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ سات مارچ 1980 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2000 میں سروس نمبر PA-3106947 کے تحت پاکستان فوج میں شمولیت اختیار کی اور حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔‘
اے این آئی نے مبینہ طور پر مارے جانے والے شخص کی تفصیلی پروفائل بھی جاری کی۔ خبر کے مطابق: ’2005 میں محمد آصف کو سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے فور کمانڈو ’یَلغار‘ بٹالین میں خدمات انجام دیں اور 2006 سے بلوچستان میں تعینات رہے۔‘
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ آصف سابق صدر پرویز مشرف کی سکیورٹی ٹیم کا بھی حصہ رہے تھے۔
اے این آئی نے دعویٰ کیا کہ آصف ’پہلگام دہشت گرد حملے میں مطلوب‘ تھے۔ انڈین فوج کی ناردرن کمانڈ کے تحت کشمیر میں قائم چنار کور نے بھی یہ دعویٰ دہرایا ہے۔
چنار کور کی بنیادی ذمہ داری کشمیر کے آپریشنل علاقے کی نگرانی ہے۔

