سیب کا سرکہ گزشتہ کئی برسوں سے صحت اور غذائیت کے حوالے سے زیرِ بحث رہتا ہے۔ اسے سیب سے حاصل ہونے والی شکر کو خمیر کرکے تیار کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایسٹک ایسڈ بنتا ہے۔ یہی ایسٹک ایسڈ اس سرکے کا اہم فعال جزو سمجھا جاتا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض ماہرین روزانہ ایک سے دو چائے کے چمچ سیب کا سرکہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسے کھانے سے پہلے یا بعض صورتوں میں کھانے کے بعد استعمال کرنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔
سیب کے سرکے کے بارے میں سب سے زیادہ بات وزن اور میٹابولزم کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بعض مطالعات میں اسے وقتی طور پر پیٹ بھرا محسوس ہونے اور کھانے کی مقدار کم ہونے سے جوڑا گیا ہے، تاہم اسے تیزی سے وزن کم کرنے کا یقینی طریقہ قرار دینا درست نہیں۔
ایسٹک ایسڈ کی موجودگی کی وجہ سے سرکے میں بعض جراثیم کی افزائش روکنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے اور اسے روایتی طور پر صفائی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ناخنوں کی پھپھوندی، جوؤں اور بعض کان کے مسائل میں بھی سیب کے سرکے کے استعمال کے دعوے موجود ہیں، لیکن ان مسائل کے باقاعدہ علاج کے لیے طبی مشورہ ضروری ہے۔
بلڈ شوگر کے حوالے سے بھی سیب کا سرکہ زیرِ تحقیق رہا ہے۔ کچھ تحقیق میں کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کے اضافے اور انسولین کی حساسیت پر معمولی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم یہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی دوا کا متبادل نہیں ہے۔
دل کی صحت کے حوالے سے سیب کے سرکے کو ٹرائی گلیسرائڈز، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں کمی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اس بنیاد پر اسے دل کے دورے یا قلبی بیماریوں سے بچاؤ کا ثابت شدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
جلد کے لیے بھی سیب کا سرکہ بعض گھریلو طریقوں میں استعمال کیا جاتا ہے، خصوصاً خشک جلد اور ایکزیما جیسے مسائل کے حوالے سے۔ تاہم چونکہ سرکہ تیزابی ہوتا ہے، اسے براہِ راست جلد پر لگانے سے جلن، خارش یا جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے بغیر طبی مشورے کے استعمال مناسب نہیں۔
اسی طرح سیب کے سرکے کو ہمیشہ مناسب مقدار میں اور پانی یا کسی دوسری محفوظ غذا کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی تیزابیت دانتوں کی سطح اور معدے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ کسی بیماری کے علاج یا دوا کے متبادل کے طور پر اسے استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
Source link

