خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگایا گیا تو معاملات زیادہ خراب ہوجائیں گے۔ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں دانش مندانہ بات کہہ کر ممکنہ بحران کے مضمرات آشکار کردیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ اگر خیبرپختون خوا میں گورنر راج نافذ ہوا تو پھر مذاکرات ہی نہیں ہونگے اور سیاسی کشیدگی بڑھ جائے گی جس سے دہشت گردی کو تقویت ملے گی، اگر امونٹی قوانین کے تحت صوبائی حکومت کو بے اختیار کیا گیا تو اس سے بھی حالات خراب ہوں گے۔
خیبر پختون خوا کابینہ نے ایک مسودہ قانون منظور کیا ہے جس کے تحت انسپکٹر جنرل اور پولیس افسران کے تقرر اور تبادلوں کے اختیارات اب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو منتقل کردیے ہیں۔ اس قانون کے تحت کسی رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کے لیے پہلے اسپیکر سے اجازت لینا ضروری ہوگی۔ یہ قانون منظوری کے لیے پہلے صوبائی اسمبلی اور بعد میں گورنر کے سامنے پیش ہوگا۔ گورنر پختون خوا اس قانون پر یقینی طور پر اعتراضات کریں گے مگر ایک صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان اس قانون پر کوئی مصالحت نہیں ہوگی تو کے پی اسمبلی اس کو دوبارہ منظور کرے گی، مگر وفاقی حکومت نے اس قانون کو وفاقی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بات کے خاصے امکانات ہیں کہ کے پی کی حکومت کو اس قانون کے نفاذ کے لیے طویل قانونی لڑائی لڑنی پڑے گی۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ قانون فوری انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ اگر کسی رکن صوبائی اسمبلی پر قتل کا الزام عائد ہوا تو پولیس فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کرسکے گی، مگر کے پی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون میں یہ شق اراکین اسمبلی کی سیاسی بنیادوں پر گرفتاری کو روکنے کے لیے شامل کی گئی ہے۔
تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ادھر خیبرپختونخوا سے کچھ ارکان اسمبلی اور ایک وزیر کی گرفتاری ہوئی ہے‘ ایک وزیر حاصل شکور خان کی گرفتاری خلاف پشاور ہائی کورٹ میں عرضداشت زیرِ سماعت ہے۔ خیبر پختون خوا گزشتہ 26برسوں سے مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے۔ جب تک کابل پر طالبان نے قبضہ نہیں کیا تھا صورتحال اتنی خراب نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے بانی کا عجیب ماڈل اس صدی میں ظہور پذیر ہوا۔ وہ ایک طرف تعلیم یافتہ خاندانوں کے ہیرو تھے اور نوجوانی میں برطانیہ، بھارت اور پاکستان کی Elite کے مقبول ترین کردار تھے جبکہ دوسری طرف سابق جنرل حمید گل کے مشورے پر طالبان کے حامی ہوگئے۔
انھوں نے متعدد بار طالبان کے نظامِ حکومت کی تعریف کی تھی بلکہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کے تعلیم کے حق پر پابندی کو افغان کلچر کا حصہ قرار دیا تھا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے طالبان کے کابل پر قبضے میں مدد کی تھی اور طالبان حکومت کے مشورے پر افغانستان میں مقیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو سابقہ قبائلی علاقوں میں آباد کیا تھا اور ان جنگجوؤں نے سابقہ قبائلی علاقوں کے علاوہ مختلف شہروں میں اپنی شریعت نافذ کی تو حکومتی اداروں نے اس کے خلاف مزاحمت نہیں کی تھی جس کی بناء پر بنوں، جنوبی اور شمالی وزیرستان، میران شاہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، وادی اور سوات وغیرہ میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم کرلی تھیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے رہنما طالبان کے خلیفہ ہیبت اﷲ اخونزادہ کو امیر المومنین تسلیم کرکے ان کے ہاتھوں پر بیعت کرنے کے بعد پورے خطے میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس بناء پر وعدوں کے باوجود کابل کی حکومت پاکستانی طالبان کے جنگجوؤں کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کئی عالمی قوتیں بھی ٹی ٹی پی اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہی ہے۔ ان عالمی طاقتوں کے اپنے مخصوص مفادات کے ساتھ پاکستانی ریاست سے منسلک بعض مضبوط گروہ ٹی ٹی پی کی اسلامی ریاست کے لیے جہاد کی پالیسی سے متفق ہیں۔ اس بناء پر یہ دہشت گرد پولیس اور فوج کی کسی پوسٹ پر حملہ کرتے ہیں یا کے پی کے مختلف شہروں میں ان عناصر کو کارروائی کا موقع ملتا ہے تو پھر تحقیقات سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ان دہشت گردوں کے سہولت کار پہلے سے موجود تھے اور یہ دہشت گرد ان سہولت کاروں کی مدد سے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرتے ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے حالات اتنے خراب ہیں کہ تحریک انصاف کے وزراء کے لیے اپنی آبائی علاقوں میں جانا جان جوکھوں کا کام ہوگیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما نے تو یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے اپنے آبائی حلقہ کا دورہ کرنا بھی خطرہ (Risk) بن گیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں پختون تحفظ موومنٹ عدم تشدد کے فلسفے پر کارگر ہے اور اس موومنٹ نے طالبانائزیشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کی تھی۔ اسی طرح کے پی کے مختلف شہروں میں شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف مزاحمتی گروپ قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ تمام امن پسند گروپ خطے میں مظاہرے کرتے اور دھرنے دیتے ہیں۔ ان کے متوازی گروپوں نے ہمیشہ ان عناصر کی نشاندہی کی ہے جو دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔
جب 16 دسمبر 2014ء کو تحریک طالبان پاکستان TLP کے دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوں اور اساتذہ کا قتل عام کیا تھا تو اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان تیار ہوا تھا، اس پلان کے تحت دہشت گردی کی جڑوں کو ختم کرنا تھا۔ اس پلان میں دہشت گردوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے مربوط آپریشن اور National Counter Terrorism Authority (NACTA) کا قیام شامل تھا۔ اس پلان کے تحت فرقہ وارانہ مذہبی جنونی تنظیموں کے خلاف فوری کارروائی ،ذرائع ابلاغ کے بیانیہ میں مذہبی انتہاپسندی کے مواد کے شائع و نشر کیے جانے پر پابندی، سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب میں تبدیلی اور مدارس کے نظام میں بڑے پیمانہ پر اصلاحات شامل ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ برسر اقتدار حکومتوں نے اس پلان پر پر عملدرآمد نہیں کیا۔
اس وقت ضرورت ہے کہ وفاق اور خیبر پختون خوا کی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک لائحہ عمل پر متفق ہوجائیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز اس لائحہ عمل کو عملی شکل دینے میں مکمل تعاون کریں۔ اس لائحہ عمل میں عسکری کارروائیوں کے علاوہ مذاکرات اور ان گروہوں کی حوصلہ افزائی شامل ہو جو طالبان کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔ اس کی ذمے داری وفاق اور صوبوں پر براہِ راست عائد ہوتی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کو بات چیت کے لیے ماحول کو سازگار کرنا چاہیے، تاکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے حقیقی حکمت عملی تیار ہوسکے اور اس پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔

