30 ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ لاکھوں ڈالر میں نیلام

پینٹنگ.webp


30 ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ لاکھوں ڈالر میں نیلام

یہ پینٹنگ شکاگو کی مشہور مصورہ گرٹروڈ ایبرکرومبی کی تھی جوکہ ایک طویل عرصے سے گم تھی

امریکا میں ایک طویل عرصے تک گم رہنے والی پینٹنگ جسے اسٹیٹ سیل سے محض 30 ڈالر میں خریدا گیا تھا 1.35 ملین ڈالر میں نیلام کر دی گئی۔

کہتے ہیں شوق کا کوئی مول نہیں، اگر آپ نایاب پینٹنگز کا شوق رکھتے ہیں تو پھر قیمت کوئی معنی نہیں رکھتی ایسا ہی واقعہ امریکا میں ایک نایاب شاہکار کے ساتھ پیش آیا جہاں اسٹیٹ سیل سے 30 ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ 1.35 ملین ڈالر میں نیلام ہوئی۔

یہ پینٹنگ شکاگو کی مشہور مصورہ گرٹروڈ ایبرکرومبی کی تھی جوکہ ایک طویل عرصے سے گم تھی تاہم ایک پینٹنگ کی نیلامی میں اسے 1.35 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس  نایاب  پینٹنگ کو مشی گن میں ہونے والی ایک اسٹیٹ سیل میں صرف 30 ڈالر میں خریدا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 4 ڈالر کی خریدی گئی پینٹنگ لاکھوں ڈالر میں نیلام

ایلڈرمین میریئمس شیل نامی یہ پینٹنگ ایبرکرومبی نے 1951 میں بنائی تھی۔ فری مینز آکشنز میں 1.35 ملین ڈالر میں فروخت ہونے کے بعد یہ فنکارہ کی اب تک کی سب سے مہنگی فروخت ہونے والی تخلیق بن گئی۔

پینٹنگ کی متوقع نیلامی قیمت 150,000 سے 250,000 ڈالر تھی، تاہم حتمی قیمت اس اندازے سے کہیں زیادہ رہی۔

ماہرین نے تحقیق کے بعد معلوم کیا کہ یہ پینٹنگ 1952 میں شکاگو کے ڈاکٹر جان رینالڈز کو ایک طبی طریقۂ کار کے عوض تحفے میں دی گئی تھی۔

تقریباً 75 سال تک یہ پینٹنگ رینالڈز کے خاندان کے پاس رہی یہاں تک کہ جولائی میں مشی گن کے شہر کالامازو میں ہونے والی ایک اسٹیٹ سیل میں اسے ایک شخص نے خرید لیا جو نایاب اور قیمتی اشیا تلاش کرنے کا شوق رکھتا تھا۔

پینٹنگ میں شکاگو کے سٹی کونسلر رابرٹ میریئم کے سمندری سیپیوں کے مجموعے کو دکھایا گیا ہے۔ میریئم نے 1947 سے 1955 تک شکاگو کے 5ویں وارڈ کی نمائندگی کی تھی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ