واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ کی ویزا پالیسیوں اور امیگریشن قوانین سے متعلق بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے باعث کولمبیا یونیورسٹی کے جرنلزم اسکول میں بین الاقوامی درخواستوں میں تیزی سے کمی آئی ہے، جس کے بعد اسکول نے ماسٹر آف آرٹس (ایم اے) پروگرام میں داخلے ایک سال کے لیے روک دیے ہیں۔
اسکول کے ڈین جیلانی کوب نے رائٹرز کو بتایا کہ داخلہ وقفے کے دوران ایم اے پروگرام کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ اسکول ۲۰۰۵ء میں شروع کی گئی اس ڈگری کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ویزا کی صورتحال سمیت کئی عوامل زیرِ غور تھے، جبکہ ادارے کو یہ جانچنے کے لیے بھی وقت درکار ہے کہ پروگرام کو کس طرح ترقی دی جائے۔ رائٹرز کے مطابق داخلوں میں سست روی اور امریکی ویزا پالیسیوں کے تعلق کی خبر اس سے پہلے سامنے نہیں آئی تھی۔ کولمبیا کے داخلہ عمل سے واقف افراد نے بتایا کہ بین الاقوامی طلبہ ایم اے پروگرام کے اندراج کا تقریباً نصف ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال نئے طلبہ ویزوں کے لیے تقرریاں عارضی طور پر روک دی تھیں، جو بعد میں درخواست دہندگان کی آن لائن سرگرمی کی توسیعی اسکریننگ کے ساتھ بحال کی گئیں۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اضافی جانچ کا مقصد ممکنہ قومی سلامتی کے خطرات کی نشاندہی ہے۔
کولمبیا ان جامعات میں شامل تھی جنہیں ۲۰۲۴ء میں فلسطین نواز کیمپس احتجاج کے بعد انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا رہا۔ یونیورسٹی نے بعد میں وفاقی تحقیقات نمٹانے اور اپنی زیادہ تر معطل وفاقی فنڈنگ بحال کرانے کے لیے ۲۰۰ ملین ڈالر سے زیادہ ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سال متعارف کرائے گئے ایک الگ اصول میں غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے امریکہ میں قیام کی مدت محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ایک وفاقی جج نے نفاذ سے قبل ہی اسے روک دیا اور اس کے جواز کو غیر معمولی طور پر کمزور قرار دیا۔
دی انٹرسیپٹ کے مطابق ہندوستانی صحافی کوشک راج، جنہیں کولمبیا کے ڈیٹا جرنلزم کے ایم ایس پروگرام میں داخلہ ملا تھا، کو گزشتہ سال امریکی اسٹوڈنٹ ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا۔
ایم اے پروگرام بڑی حد تک وسط کیریئر کے ان صحافیوں کے لیے ہے جو سیاست، کاروبار اور سائنس جیسے شعبوں میں مہارت گہری کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایم ایس پروگرام سے چھوٹا ہے، جو کم صحافتی تجربہ رکھنے والے طلبہ کے لیے ہے۔ کم اندراج کی وجہ سے ۲۰۲۴ء-۲۵ء تعلیمی سال میں سائنس اور سیاست کے سیمینارز کے امتزاج سمیت کورس میں تبدیلیاں پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔ کولمبیا نے دو سالہ جز وقتی آن لائن ایم ایس پروگرام کا بھی اعلان کیا ہے، جو بین الاقوامی طلبہ کو امریکی ویزا کے بغیر تعلیم کا موقع دے سکتا ہے، لیکن کوب کے مطابق اس کا ایم اے داخلہ وقفے سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صحافت کے اسکول اور نیوز ادارے مصنوعی ذہانت، سرچ ٹریفک میں کمی اور صنعت بھر میں ملازمتوں کی کٹوتی جیسے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ کولمبیا کے اندازے کے مطابق نو ماہ کے ایم اے کی لاگت مالی امداد سے پہلے تقریباً ایک لاکھ ۲۰ ہزار ڈالر ہے، جبکہ ڈیٹا جرنلزم میں ایک سالہ ایم ایس کی لاگت تقریباً ایک لاکھ ۸۰ ہزار ڈالر ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق تقریباً ۸۰ فیصد طلبہ کو کسی نہ کسی شکل میں مالی امداد ملتی ہے۔

