اسلام آباد:
پاکستان 7 ارب ڈالرکے 37 ماہ کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے آخری سال میں داخل ہورہا ہے ایسے میں ملک کو ایک اہم معاشی موڑ کاسامنا ہے۔
پالیسی سازوں کے سامنے سوال صرف موجودہ پروگرام کی کامیاب تکمیل کانہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد پاکستان اپنی معیشت کو بار بار آئی ایم ایف پروگراموں کی ضرورت سے کیسے نکالے۔
کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے پاس مسلسل آئی ایم ایف پروگراموں سے نکلنے کاقابلِ اعتبار موقع موجودہے، اگرچہ معیشت اب بھی مکمل طور پر خطرات سے باہر نہیں آئی اور ادائیگیوں کے توازن کے بحران پیداکرنیوالی بنیادی کمزوریاں ختم نہیں ہوئیں، تاہم موجودہ پروگرام کے آخری سال میں پاکستان 2023 کے بحران کے مقابلے میں کہیں مضبوط پوزیشن میں داخل ہواہے، زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ہواہے۔
اسٹیٹ بینک کے ذخائر تقریباً 21۔4 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی مائع ذخائر تقریباً 26۔8 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
مرکزی بینک کے موجودہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی درآمدات کیلیے کافی ہیں، جو 2023 کے بحران کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
پاکستان نے عالمی سرمایہ مارکیٹوں تک بھی دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے۔ستمبر میں پاکستان نے دو حصوں پرمشتمل یورو بانڈکے ذریعے ریکارڈ 3 ارب ڈالرحاصل کیے، جس کیلیے تقریباً 6 ارب ڈالرکی بولیاں موصول ہوئیں۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتاہے کہ عالمی سرمایہ کار ایک مرتبہ پھر پاکستان کوقرض دینے پرآمادہ ہیں اور ملک کیلیے سرکاری قرض دہندگان کے علاوہ بیرونی فنانسنگ کاایک اورذریعہ دستیاب ہوگیا ہے۔
امریکاکی جانب سے مجوزہ 10 ارب ڈالرکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت بھی پاکستان کیلیے اضافی مالی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
یہ تجویز اس وقت زیرِغور ہے اوراگرمنظور ہوجاتی ہے تو اس سے مالیاتی بیک اپ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کااعتمادبھی مضبوط ہوسکتاہے،مالی سال 2026 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زرریکارڈ 41۔6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو تین سال قبل 27۔3 ارب ڈالر تھیں۔
اسی طرح خدمات کی برآمدات 10 ارب ڈالر سے تجاوزکرچکی ہیں، جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات نمایاں کردار اداکررہی ہیں۔
آئی سی ٹی برآمدات مالی سال 2026 میں تقریباً 4۔6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں اور ان میں سالانہ 20 فیصدسے زیادہ اضافہ ہوا۔پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ، جو تجارت،سرمایہ کاری اور بیرون ملک سے مالی منتقلی سمیت عالمی مالی لین دین کی عکاسی کرتاہے، 14برس میں پہلی مرتبہ مسلسل خسارے کے بجائے سرپلس یا تقریباًمتوازن سطح پر رہاہے۔
حکومت نے بھی بنیادی بجٹ سرپلس برقراررکھاہے، یعنی سودکی ادائیگیوں سے قبل حکومتی آمدن اخراجات سے زیادہ ہے۔شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ نے بھی درآمدی ایندھن پر پاکستان کاانحصارکم کرنے میں مدددی ہے۔
توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں سالانہ توانائی درآمدی بل میں تقریباً 5 سے 8 ارب ڈالر تک کمی آسکتی ہے،جس کاانحصار عالمی خام تیل کی قیمتوں پر ہوگا،تاہم اشیاکی برآمدات وہ بڑاشعبہ ہے جہاں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
پاکستان کی اشیاکی برآمدات تقریباً 15 برس سے 25 سے 32 ارب ڈالرکی حدودمیں رہی ہیں۔ دوسری جانب درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھتارہاہے۔
پاکستان اس وقت پانچ سالہ تجارتی لبرلائزیشن پروگرام کے دوسرے سال میں ہے، توقع ہے کہ آئندہ دوسے تین برس میں اس کے اثرات برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کی صورت میں سامنے آناشروع ہونگے۔

