
(ویب ڈیسک) ایران کے سینئیر وزیر محسن پاک نژاد نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ۔ استعفے کی وجہ اب تک نہیں بتائی گئی۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ وزیر تیل محسن پاک نژاد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں جبکہ حکومت کی ملکیت نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو حامد بوارد کو ان کی جگہ عبوری وزیر کا چارج دیا گیا ہے۔
محسن پاک نژاد نے وزارت سے استعفے کی وجہ اب تک نہیں بتائی۔
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے دفتر نے بتایا کہ صدر مسعود پزشکیان نے محسن پاک نژاد کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے اور حامد بووارد کو قائم مقام وزیر تیل مقرر کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو چکا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مذاکرات سبوتاژ کیے: محسن نقوی
میڈیا رپورٹ کے مطابق مستعفی وزیر نے بتایا کہ تیل کی برآمد سے سرمایے کی آمد جاری ہے اور ان شااللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ایران تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن ہے اور محسن پاک نژاد اگست 2024 سے اہم شعبے کے وزیر تھے جبکہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کو 7 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کے باعث دنیا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ایران کے قائم مقام وزیرِ تیل حامد بووارد ہیں، جنہوں نے محسن پاک نژاد کے استعفیٰ کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے محسن پاک نژاد کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے حامد بووارد کو وزارت کا چارج سونپ دیا۔
یہ بھی پڑھیئے: لانگ مارچ روکنے کی آخری کوشش کب، کس نے کی؟ سینئیر جرنلسٹ نے مذاکرات کولیپس ہونےکی کہانی کا ایک اور ورق شئیر کر دیا

