
( احمد منصور) بھارت میں سکھوں کے قتلِ عام کو42 برس بیت گئے، متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
یکم نومبر 1984 کو بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ، جب بھارتی سیکوریٹی فورسز نے ہزاروں بے گناہ سکھوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کو جواز بنا کر یکم نومبر 1984ء سے بھارتی حکومت کی سرپرستی میں سکھوں کی منظم نسل کشی کا ہولناک سلسلہ شروع کیا گیا۔
آزادانہ تحقیقات کے مطابق 8,000 سے 17,000 سے زائد بے گناہ سکھ موت کے گھاٹ اتارے گئے۔
بھارتی وزارتِ داخلہ (2015) کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف دہلی میں 2,733 اور ملک بھر میں 3,325 سکھ ہلاک ہوئے۔
انتہا پسندوں نے سکھ مردوں اور بچوں کے گلوں میں پٹرول سے بھرے گاڑیوں کے ٹائر ڈال کر زندہ جلادیا۔
ووٹر فہرستوں اور راشن کارڈز کے ذریعے سکھوں کے مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کی نشان دہی کی گئی اور "S” لکھ کر نشانہ بنایا گیا۔
دہلی کے علاقوں’تلوک پوری’، ‘کلیان پوری’ اور ‘ترلوک پوری’ میں سیکڑوں سکھ خواتین کو اہل خانہ کے سامنے اجتماعی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔
‘تلوک پوری’ کی ایک بستی کو آج بھی "بیواؤں کی بستی” کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں کے تمام بالغ سکھ مردوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
سکھوں کی داڑھی اور بال کاٹے گئے،تاریخی گورودوارے نذرِ آتش ، فیکٹریوں، بسوں اور دکانوں کو مکمل طور پر لوٹ کر راکھ بنا دیا گیا۔
مرکزی کانگریسی رہنماؤں ایچ کے ایل بھگت، سجن کمار ، جگدیش ٹائٹلر اور کمل ناتھ نے بلوائیوں کی قیادت، اسلحہ فراہمی اور قتلِ عام کی براہِ راست سرپرستی کی۔
دہلی پولیس کے کمشنر ایس سی ٹنڈن مقامی انتظامیہ نے سکھوں کو غیر مسلح کر کے حملہ آوروں کو کھلی چھوٹ فراہم کی۔
ہیومن رائٹس واچ اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس تشدد کو باقاعدہ "ریاستی سرپرستی میں نسل کشی” قرار دیا۔
ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ دہلی پولیس نے قتلِ عام سے متعلق 587 ایف آئی آرز (FIRs) درج کیں۔ 241 اہم مقدمات بغیر کسی تفتیش کے بند کر دئے گئے ۔
2005 میں جسٹس ناناوتی کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں منظم تشدد اور مقامی ہندوقیادت کے کردار کی تصدیق کی۔
دہائیوں پر محیط تحقیقات کے باوجود سیاسی رہنماؤں اور ماسٹر مائنڈز کو سخت سزائیں نہ مل سکیں۔
‘پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹس’ (2025) کے مطابق متاثرین کی نسلیں چار دہائیوں بعد بھی انصاف کی منتظر ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چار دہائیوں بعد بھی سکھ خاندانوں کے زخم ہرے ہیں۔ ’سب سے بڑی جمہوریت‘ کا دعویدار بھارت اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہا –
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیل میں نئی حکومت بنائیں گے، حماس کی مذمت لیکن دہشتگرد نہیں کہیں گے، عرب جوائنٹ لسٹ کے لیڈر کا اعلان

