لندن: برطانوی گلوکار اور ون ڈائریکشن کے سابق رکن زین ملک نے فلسطین سے متعلق اپنے مؤقف پر حالیہ بحث کے دوران جولائی 2014 کی اپنی "#FreePalestine” پوسٹ کا اسکرین شاٹ دوبارہ شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا: "یہ ان تمام الجھے ہوئے لوگوں کے لیے ہے! تاریخ دیکھ لیں۔”
زین ملک نے اصل پیغام 28 جولائی 2014 کو ایکس (اس وقت ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا تھا، جس میں صرف "#FreePalestine” لکھا تھا۔ یہ پوسٹ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران آئی تھی اور ابتدائی دنوں میں ایک لاکھ سے زائد مرتبہ شیئر ہوئی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس کے دوبارہ شیئر کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اس پر انہیں شدید آن لائن ردعمل اور بعض صارفین کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم انہوں نے پوسٹ حذف نہیں کی۔
حالیہ بحث کا آغاز جنوبی امریکی دورے کے دوران ایک کنسرٹ میں ان کے بیان سے ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں "کوئی بھی جان معمولی نہیں” اور پھر "سب کو آزاد کرو” کہا۔ انہوں نے اس میں کسی ملک یا تنازع کا نام نہیں لیا تھا۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان کے مؤقف پر سوال اٹھایا اور اس کا موازنہ حالیہ دنوں میں میکلمور اور ایڈ شیرن سے متعلق تنازع سے کیا۔
زین ملک کا فلسطین سے متعلق مؤقف 2014 تک محدود نہیں رہا۔ مئی 2021 میں غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی کے دوران انہوں نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا تھا اور فلسطینی بچوں اور خاندانوں کے جانی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ خاموش تماشائی نہیں بنا جا سکتا۔ حالیہ پوسٹ کے ساتھ انہوں نے کوئی نیا تفصیلی سیاسی بیان جاری نہیں کیا۔

