لندن: برطانیہ کی گرین پارٹی نے اتوار کو برائٹن میں اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران ایک ایسی قرارداد منظور کر لی جس میں کہا گیا ہے کہ "صیہونیت نسل پرستی ہے۔” قرارداد کے حق میں 1,022 اور مخالفت میں 813 ووٹ پڑے، جس کے بعد یہ انگلینڈ اور ویلز میں پارٹی کی باضابطہ پالیسی بن گئی ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صیہونیت کو "نسل پرستی کی کسی بھی دوسری شکل کی طرح” سمجھا جائے۔ پارٹی نے اپنے مؤقف کے لیے 1973 کے "بین الاقوامی کنونشن برائے نسل پرستی” (اپارتھائیڈ) اور 1998 کے "روم اسٹیٹیوٹ” سمیت بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیا۔ 2024 میں گرین پارٹی انگلینڈ اور ویلز کی پہلی سیاسی جماعت بنی تھی جس نے اسرائیلی حکومت کو "اپارتھائیڈ ریاست” تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
پارٹی ترجمان نے کہا کہ قرارداد صیہونیت کی مخالفت کا اظہار کرتی ہے، جسے ایک نسلی قوم پرستانہ سیاسی منصوبے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور واضح کرتی ہے کہ صیہونیت مخالف مؤقف کو یہود دشمنی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ترجمان کے مطابق قرارداد فلسطینیوں کی آزادی، حقِ واپسی، بائیکاٹ، ڈائیوسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (BDS) اور اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی کے لیے پارٹی کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ ترجمان نے گرین پارٹی کو "نسل پرستی مخالف جماعت” قرار دیا اور فلسطینی و شامی سرزمین پر اسرائیل کے مبینہ غیر قانونی قبضے کی مخالفت جاری رکھنے کا بھی کہا۔
"دی گارڈین” کے مطابق "صیہونیت نسل پرستی ہے” کے عنوان سے پیش کی گئی بنیادی قرارداد "گرینز فار پیلسٹائن” نامی گروپ نے آگے بڑھائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس گروپ نے پارٹی سے باہر کے لوگوں کو بھی پارٹی میں شامل ہونے کی ترغیب دی تاکہ پالیسی پر بحث ہو اور اسے منظور کرایا جا سکے۔ قرارداد کے مطابق صیہونیت لازماً نسل پرستانہ ہے کیونکہ یہ "دوسروں کو محکوم بنا کر ایک نسلی گروہ کو ترجیح دیتی ہے۔” اس میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سیاسی نظریے اور طرزِ عمل کو ہدف بناتی ہے، نہ کہ خود کو صیہونی سمجھنے والوں کے مذہبی یا نسلی پس منظر کو، اور یہ کہ تمام یہودی صیہونی نہیں اور تمام صیہونی یہودی نہیں۔

