انکم ٹیکس ادائیگی میں تنخواہ دار طبقہ بدستور سب سے آگے

انکم ٹیکس.webp


 ملک میں تنخواہ دار طبقہ ٹیکس کا سب سے بڑا بوجھ اٹھانے والا طبقہ بن گیا اس کے برعکس رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل شعبوں کی ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی یا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 ذرائع ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے سے 144 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ دو سال کے دوران تنخواہ دار طبقے کی سالانہ ٹیکس ادائیگی 391 ارب روپے سے بڑھ کر 629 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سال میں تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی میں مجموعی طور پر 238 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ انکم ٹیکس وصولی میں 10.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے صرف 35.2 ارب روپے انکم ٹیکس وصول ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس میں دی گئی رعایت کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ٹیکس وصولی میں تقریباً 22 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد جبکہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصولی میں 42 فیصد جبکہ جائیداد کی خریداری پر انکم ٹیکس وصولی میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ادھر ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کی مجموعی ٹیکس ادائیگی بھی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی۔ حکام کے مطابق دونوں شعبوں نے مجموعی طور پر صرف 54 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔

تھوک اور خوردہ فروشوں سے ودہولڈنگ ٹیکس وصولی میں صرف 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تھوک فروشوں کی ٹیکس ادائیگی میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تاہم ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولی میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقے کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور بعض کاروباری شعبوں سے وصولی میں کمی نے ٹیکس نظام میں شعبہ جاتی عدم توازن کو نمایاں کردیا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ