پاکستان: جناح کی بیماری خفیہ رکھنے والے ممبئی کے دو ڈاکٹروں کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا

Inquilab 20260820 185123 0000 d


پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ محمد علی جناح کی تقسیم کے وقت کی مہلک بیماری کو خفیہ رکھنے والے ممبئی کے دو پارسی ڈاکٹروں — جل رتن جی پٹیل اور ریڈیولوجسٹ جل ڈیبو (ممکنہ طور پر کنیت Deboo) — کو بعد از مرگ اپنی اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’نشانِ امتیاز‘ سے نوازے گا۔ کابینہ کی ایوارڈز کی سرکاری فہرست میں دونوں نام درج کیے گئے ہیں۔
پس منظر: پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل/صدر محمد علی جناح تقسیمِ ہند کے وقت تپِ دق (ٹی بی) کے مرض میں مبتلا تھے، جس نے ان کے پھیپھڑوں کو شدید متاثر کیا تھا۔ جناح 11 ستمبر 1948 کو انتقال پا گئے تھے۔ ڈومینیک لاپیئر اور لیری کولنز کی 1975 کی کتاب Freedom at Midnight میں دعویٰ ہے کہ اگر اس وقت کے وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کو جناح کی سنگینیِ حال کا علم ہوتا تو وہ ممکنہ طور پر اقتدار کی منتقلی مؤخر کر دیتے — ایک ایسا اقدام جو تاریخ کے رخ کو بدل سکتا تھا۔
حکومتی موقف: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ماؤنٹ بیٹن نے بعد ازاں اعتراف کیا تھا کہ اگر انہیں جناح کی بیماری کا اندازہ ہوتا تو وہ تقسیم کو ملتوی کر سکتے تھے۔ اقبال نے کہا کہ ان ڈاکٹرز نے ایسے نازک موڑ پر پیشہ ورانہ رازداری برقرار رکھی اور ایک خاموش مگر غیر معمولی خدمت انجام دی، جس نے "غیر ارادی طور پر ان حالات میں اہم کردار ادا کیا جنہوں نے قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا۔”
کتابی حوالہ اور طبی پس منظر: لاپیئر اور کولنز کے مطابق ڈاکٹر پٹیل نے 1946 میں جناح میں دائمی ٹی بی کی تشخیص کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ مسلسل کام، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی جاری رہنے کی صورت میں ان کے پاس چند برس ہی باقی رہ سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جناح نے طبی مشوروں پر پورا عمل نہیں کیا اور خفیہ انجیکشن لیتے رہے۔
تاریخی تناظر: تقسیمِ ہند کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر ہجرت اور فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں لاکھوں افراد بے گھر اور سینکڑوں ہزاروں تا لاکھوں افراد ہلاک قرار دیے جاتے ہیں۔ اس اعزاز کے اعطائیے کا فیصلہ تاریخ اور رازداری کے سوالات کو دوبارہ سامنے لا سکتا ہے اور پارسی کمیونٹی میں اس کے املا (Daeboo/ Deboo) کے حوالے سے بعض بحثیں بھی ہو رہی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ