فوٹو: پی ٹی آئی
موجودہ اسرائیلی انتخابات درحقیقت اس امر کا فیصلہ نہیں کریں گے کہ نتن یاہو اقتدار میں رہیں گے یا نہیں، اور نہ ہی وہ فلائی دبئی کے مشتبہ سکیورٹی ڈراموں کی نذر ہونے والی انتخابی فضا کو یکسر پلٹ سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کا پانچواں حصہ کہلانے والا فلسطینی عرب طبقہ اپنی بے وزنی، تذبذب اور بائیکاٹ کے خول سے باہر نکل کر خود کو ایک ناقابلِ تسخیر سیاسی طاقت بنا پائے گا؟
اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے الجلیل کی سمت شمال کی جانب سفر کریں تو سڑک کے اطراف مناظر، خطاطی اور زبان یکسر بدل جاتے ہیں۔ دکانوں کے سائن بورڈز پر عبرانی دھندلا جاتی ہے اور عربی حروف نمایاں ہو کر ایک متبادل تاریخی و تہذیبی وجود کا اعلان کرتے ہیں۔
ناصرہ اسرائیل کے اندر عرب آبادی کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے۔ اس کے ارد گرد سخنین، عرابہ، کفر مندا، شفا عمرو اور طمرہ کے قصبات و دیہات پھیلے ہوئے ہیں۔ کچھ مزید جنوب کی طرف آئیں تو ام الفحم، طیبہ اور طیرہ جیسے عرب شہر واقع ہیں، جبکہ صحرائے نقب کے ریتلے دامن میں بدو آبادی کے وہ غیر تسلیم شدہ دیہات موجود ہیں جنہیں جدید اسرائیلی ریاست میپ پر تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔
یہ و ہ آبادی ہے، جو اپنے آپ کو فلسطینی کے علاوہ اسرائیلی عرب کہتے ہیں، کیونکہ مقبوضہ مغربی کنارہ اور غازہ کے مکینوں کے برعکس ان کے پاس اسرائیلی شہریت ہے۔ پوری دنیا کی نگاہیں اس وقت اسرائیل کے 27 اکتوبر کے عام انتخابات کی طرف ٹکی ہوئی ہیں، جو نہ صرف اس خطے میں، بلکہ دنیا میں امن یا مزید کشیدگی کا فیصلہ کرےگا۔
یکم اکتوبر کو جب مغربی یروشلم میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے نو ججوں پر مشتمل توسیعی بنچ عرب جماعتوں پر عائد پابندی پر سماعت کر رہا تھا، تو ان تمام بستیوں میں لوگ ٹیلی ویژن اور موبائل اسکرینوں سے چپکے ہوئے تھے۔ مرکزی انتخابی کمیشن نے انتہائی دائیں بازو کے رہنما اور وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کے دباؤ پر عرب جماعتوں کے اتحاد اور اسلامی جماعت ‘رعام’کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا تھا۔
بن گویر خود وکیل کا روپ دھار کر عدالت میں سامی ابو شہادہ جیسے عرب رہنماؤں کو نااہل کرانے کےلیے عدالت میں پہنچے تھے۔ سپریم کورٹ نے بالآخر عرب جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، لیکن اس عدالتی معرکے نے ریاست کے ڈھانچے میں عربوں کی قانونی اور آئینی بے وزنی کو ایک بار پھر عریاں کر دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں فلائی دبئی کے طیارے سے متعلق مبینہ ہائی جیکنگ اور کاک پٹ میں پائلٹوں کے جھگڑے کے پراسرار واقعہ نے اسرائیلی سیاسی حلقوں میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اسرائیل میں سیاسی تجزیہ کار کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مبینہ ہائی جیکنگ کے واقعہ کا سب سے بڑا سیاسی اور انتخابی فائدہ وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کو پہنچ سکتا ہے۔
دلچسپ اور معنی خیز امر یہ ہے کہ یہ مشتبہ ڈرامائی واقعہ نتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے اور اماراتی قیادت سے حالیہ ملاقاتوں کے فوراً بعد پیش آیا۔ اس غیر معمولی ٹائمنگ نے مشرقِ وسطیٰ اور خود تل ابیب میں نت نئے سوالات، سازشی مفروضوں اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
نتن یاہو کے ناقدین کا ماننا ہے کہ وہ اس واقعے کا استعما ل کرکے یہودی ووٹروں میں خوف، سلامتی کے خدشات اور قوم پرستانہ لہر کو مزید گہرا کر کے اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ و ہ ان کو بتا رہے ہیں کہ اس پرآشوب دور میں صرف وہی ایک مضبوط قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ، نتن یاہو اپنی مہم میں عرب ووٹوں اور عرب جماعتوں کو سیاسی خطر ہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وہ یہودی رائے دہندگان کو مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حزب اختلاف کی حکومت بنی تو وہ عرب جماعتوں کی محتاج ہوگی۔
سابق چیف آف اسٹاف اور ‘یشار’ پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ جیسے نام نہاد لبرل صیہونی رہنما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر منصور عباس کی رعام یا دیگر عرب جماعتوں کو اپنی حکومت کا حصہ نہیں بنائیں گے۔
اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کے جادوئی ہندسے کے لیے اگرچہ عرب ارکان کی حمایت عددی طور پر ناگزیر ہو سکتی ہے، لیکن یہودی تسلط پر مبنی سیاسی ڈھانچہ انہیں اقتدار کے اصل ایوانوں میں شریک کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہوتاہے۔
ملک کے متناسب انتخابی نظام کے تحت اس بار تقریباً 38 چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں اور انتخابی لسٹوں نے کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے پرچے داخل کیے ہیں، جن میں سے حالیہ جائزوں کے مطابق تقریباً 12 سے 13 پارٹیاں ہی 3.25 فیصد کا انتخابی تھریش ہولڈ پار کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
سیاسی منظرنامہ بنیادی طور پر دو متصادم کیمپوں اور چند آزاد دھڑوں میں منقسم ہے؛ ایک طرف بنجمن نتن یاہو کی قیادت میں برسرِ اقتدار دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے جس میں لکوڈ، الٹرا آرتھوڈوکس جماعتیں شاس اور یونائیٹیڈ تورات یہودیت، اور انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست دھڑے اتمار بن گویر کی ‘جیوش پاور’ اور بیزالیل سموٹریچ کی ‘ریلیجس صیہونزم شامل ہیں؛ دوسری طرف اپوزیشن کا صیہونی کیمپ ہے جس کی قیادت اس وقت سابق فوجی سربراہ اور یشارپارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کر رہے ہیں، جن کے ساتھ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، یائر گولان کی دی ڈیموکریٹس اور ایویگڈور لیبرمین کی اسرائیل بیتینوہیں۔
ان کے علاوہ فلسطینی عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والے دو الگ بلاک میدان میں ہیں۔ ایک احیائ شدہ مشترکہ فہرست جس میں حداش، تعال اور بلاد شامل ہیں اور دوسری منصور عباس کی اسلامی جماعت ‘رعام’ جس کو یونائیٹڈ عرب لسٹ کہتے ہیں۔
تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں نے اسرائیلی سیاست میں ایک تعطل کی پیش گوئی کی ہے۔ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت کسی ایک بلاک کو بھی ملتی نظر نہیں آ رہی۔
سروے بتاتے ہیں کہ نتن یاہو کے حامی بلاک کو لگ بھگ 50 سے 51 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزبِ اختلاف کا خیمہ 53 سے 54 نشستیں جیت سکتا ہے۔ نتن یاہو کی اپنی پارٹی لکود، جس نے 2022 میں 32 نشستیں جیتی تھیں، اب گر کر 19 سے 21 نشستوں پر سمٹتی دکھائی دے رہی ہے، جس کی وجہ غزہ جنگ کی طوالت، قیدیوں کا تنازع اور اندرونی معاشی دباؤ ہے۔
دوسری طرف، سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزن کوٹ وزیر اعظم کے خلاف سب سے مضبوط چیلنجر بن کر ابھرے ہیں جن کی جماعت ‘یشار’ کو 21 سے 23 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، چونکہ آئزن کوٹ اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ منصور عباس یا دیگر عرب جماعتوں کے سہارے حکومت نہیں بنائیں گے، اس لیے نتن یاہو کے پاس عرب ووٹروں کے خوف کو ہوا دے کر، سکیورٹی بیانیے کو کیش کرا کر اور دائیں بازو کے بکھرے ہوئے ووٹوں کو متحد کر کے دوبارہ اقتدار کی راہ نکالنے کا امکان بدستور موجود ہے۔
ایک ایسے رپورٹر کے لیے جس نے ہندوستان کے انتخابات متواتر کور کیے ہوں، اور جو دہلی، اتر پردیش، بہار، بنگال، حیدرآباد کے انتخابی دنگل دیکھنے کا عادی ہے۔ اسرائیل کا انتخابی نظام پہلی نظر میں حیرت انگیز اور متضاد معلوم ہوتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں برطانوی طرز کا فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام نافذ ہے، جہاں ایک مخصوص جغرافیائی حلقہ اپنا انفرادی رکن پارلیامنٹ چنتا ہے۔ اس کے برعکس، اسرائیل میں کوئی جغرافیائی انتخابی حلقہ نہیں ہے۔ پورا ملک ایک واحد قومی انتخابی حلقہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ کنیسٹ یعنی اسرائیلی پارلیامنٹ کے تمام 120 اراکین متناسب نمائندگی کے تحت پارٹی لسٹ کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، جس کے لیے ملک بھر کے مجموعی ووٹوں کا کم از کم 3.25 فیصد انتخابی تھریش ہولڈ حاصل کرنا لازمی ہے۔
اس نظام کا مطلب یہ ہے کہ ناصرہ یا ام الفحم کا عرب ووٹر کسی ناصرہ کے ایم پی کا انتخاب نہیں کرتا، بلکہ اس کا ووٹ اسی قومی بیلٹ بکس میں گرتا ہے جس میں تل ابیب، مغربی یروشلم یا مغربی کنارے کی کسی غیر قانونی یہودی بستی میں مقیم کٹر صیہونی کا ووٹ ڈالا جاتا ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی پچھلی مردم شماری کے مطابق تقریباً 14.2 فیصد تھی، لیکن 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 543 کے ایوان میں محض 24 مسلم اراکین پارلیامنٹ منتخب ہو سکے، جو کل ایوان کا بمشکل 4.4 فیصد بنتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل میں تقریباً 20 فیصد یعنی آبادی کا پانچواں حصہ فلسطینی عرب شہریوں پر مشتمل ہے۔ اس حساب سے 120 رکنی کنیسٹ میں عربوں کے پاس لگ بھگ 24 نشستیں ہونی چاہیے، لیکن عرب جماعتیں کبھی بھی اس ہندسے تک نہیں پہنچ سکیں۔
ان کی اب تک کی بہترین کارکردگی مارچ 2020 میں تھی جب تقریباً 65 فیصد عرب ٹرن آؤٹ کے بعد وہ 15 نشستیں جیت پائے تھے۔ہندوستان میں آزادی کے بعد دہائیوں تک مسلمانوں نے بالعموم کبھی اپنی الگ قومی مسلم سیاسی جماعتیں بنانے کو ترجیح نہیں دی، بلکہ انہوں نے سیکولر کانگریس، لیفٹ یا علاقائی جماعتوں سماج وادی، آر جے ڈی، ٹی ایم سی کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو منوانے کی کوشش کی۔ فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ سسٹم کی وجہ سے وہ مخصوص حلقوں میں مرتکز ہو کر فیصلہ کن تو بنے، لیکن قومی سطح پر ان کی آزاد اور متناسب نمائندگی غائب رہی۔
اسرائیل میں نظام اس کے برعکس ہے: یہاں متناسب نمائندگی کے باعث فلسطینیوں کو اپنی الگ قومی و شناختی جماعتیں کھڑی کرنے کی مکمل آئینی گنجائش میسر ہے۔ ان کی ایک آزاد پارلیامانی موجودگی بھی ہے، لیکن مسئلہ ووٹ لینے کے بعد کے مرحلے پر پیدا ہوتا ہے؛ یعنی ان کی پارلیامانی نشستیں کبھی بھی حکومتی اقتدار اور فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت داری میں تبدیل نہیں ہو پاتی ہیں۔جس طرح ہندوستان کی موجودہ سیاست میں اقلیتی ووٹ کی اہمیت کو غیر مؤثر بنا کر اکثریت پسندی کو فروغ دیا گیا ہے، ٹھیک اسی طرح اسرائیل کا یہودی اکثریتی سیاسی دھارا کنیسٹ کے اندر عرب جماعتوں کو غیر متعلق بنا دیتا ہے۔
کنیسٹ میں عرب اراکین کو علامتی طور پر جمہوریت کے بینر کے طور پر تو سجایا جاتا ہے، لیکن قانون سازی اور ایگزیکٹو پاور میں انہیں کوئی کردار نہیں دیا جاتا۔
اسرائیل میں 2025 کے اختتام تک تقریباً 18.5 لاکھ مسلمان آباد تھے، جو کل آبادی کا قریباً 18.6 فیصد ہیں۔ وسیع تر عرب شناخت میں عیسائی اور دروز برادریاں بھی شامل ہیں۔
یہ فلسطینی شہری مقبوضہ مغربی کنارے اور محصور غزہ کے ان فلسطینیوں سے قانونی طور پر مختلف ہیں جنہیں اسرائیل میں ووٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ 1948 کے نکبہ میں جب عرب اکثریت کو بے دخل کر دیا گیا تو تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی اپنی زمینوں پر ڈٹے رہے، جو آج بیس لاکھ سے زائد نفوس کی شکل میں ایک آبادیاتی حقیقت بن کر موجود ہیں۔

حیفہ یونیورسٹی میں پالیٹکل سائنس کے معروف پروفیسر اور اقلیتی سیاست و نسلی ریاستوں پر گہری نگاہ رکھنے والے ممتاز اسکالر پروفیسر اسد غانم نے راقم کو بتایا کہ 1948 کے نکبہ کے بعد جو فلسطینی اپنی سرزمین پر بچے رہے، انہیں بالآخر اسرائیلی شہریت تو مل گئی اور ووٹ ڈالنے کا حق بھی حاصل ہوا، لیکن اسرائیل نے انہیں کبھی بھی مکمل طور پر برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا ہے۔ فلسطینی قومی تحریک پناہ گزین کیمپوں، مغربی کنارے اور غزہ میں پروان چڑھی، جس کی وجہ سے اندرونِ اسرائیل کے فلسطینی تاریخی طور پر اس مرکزی دھارے سے کسی حد تک کٹے رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی عرب سیاست کوئی یک جہتی بلاک نہیں ہے، بلکہ یہ تین واضح اور متصادم نظریاتی دھاروں میں بٹی ہوئی ہے۔کمیونسٹ اور عرب-یہود مشترکہ دھارا جس کو حداش کہتے ہیں ۔ یہ بائیں بازو کی سوشلسٹ روایت پر قائم ہے جس میں یہودی اور عرب دونوں شامل ہیں، جیسے اوفر کاسیف جو خود ایک یہودی رکن پارلیامنٹ ہیں لیکن عرب لسٹ سے الیکشن لڑتے ہیں اور جن کا ماننا ہے کہ فلسطینی ووٹ اسرائیلی سیاست میں ‘گیم چینجر’ ثابت ہو سکتا ہے۔
پھر فلسطینی قوم پرست اتحاد ہے ۔ جس میں بلاد اور تعال پارٹیاں ہیں، جن کی قیادت بالترتیب احمد طیبی اور سامی ابو شہادہ کے پاس ہیں۔ یہ جماعتیں ایک ایسی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتا ہے جو اسرائیل کو یہودی ریاست کے بجائے تما م شہریوں کی ریاست میں تبدیل کرسکے۔ اسلامی تنظیموں میں رعام سب سے اہم ہے۔اس کی باگ ڈور منصور عباس کے ہاتھ میں ہے۔اس پارٹی نے پچھلے چند برسوں میں عملیت پسندی کے نام پر جو راستہ اختیار کیا، وہ اسرائیل میں عرب سیاست کا سب سے متنازعہ تجربہ بن چکا ہے۔
منصور عباس کا مؤقف ہے کہ وسیع تر فلسطینی مسئلے کے حل ہونے تک عرب شہریوں کو اپنے مقامی مسائل،جیسے جرائم پیشہ منظم گینگ کا خاتمہ، مکانات کی تعمیر کے پرمٹ، بلدیاتی بجٹ اور بنیادی ڈھانچے کے حل کے لئے کام کرنے کےلئے اپنے پارلیمانی ووٹ کو یہودی حکومتوں سے سودے بازی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ 2021 میں انہوں نے نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کی مخلوط حکومت میں شامل ہو کر تاریخ رقم کی تھی۔
حالیہ انتخابات میں منصور عباس نے اپنی اسلامی جماعت کی انتخابی لسٹ میں دوسرے نمبر پر یوو سیگالووٹز کو نامزد کیا ہے، جو صیہونی یہودی، سابق سینئر پولیس کمانڈر اور یائر لاپید کی یش عتید پارٹی کے سابق رہنما ہیں۔ ایک اسلامی جماعت کا سابق صیہونی پولیس چیف کو اپنا نائب بنانا سیاسی لچک کی انتہا یا نظریاتی خودکشی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے اس طرز عمل سے فلسطینی ان سے خاصے خفا ہیں۔
مگر اسرائیل میں مقیم عرب ان کے قدم کو عملیت پسندی کا نام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ اپنے دن بدن کے مسائل کو پس پشت کو نہیں ڈال سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں بقا کے لیے بھی عارضی سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔
اسلامی جماعت کی طرف سے بطور امیدوار نامزد ہونے کے بعد خود یوو سیگالووٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان ایک مشکل اور تلخ تاریخ رہی ہے، لیکن اس کے دونوں کا ایک مشترکہ مستقبل بھی ہے۔
جب میں نے پروفیسر اسد غانم سے اس گہرے تضاد کے بارے میں پوچھا ،تو ان کا کہنا تھا قوم پرست اور بائیں بازو کی جماعتیں ہمیشہ سے اسرائیلی حکومتوں کا حصہ بننے سے انکار کرتی رہی ہیں، کیونکہ وہ غزہ اور مغربی کنارے پر ہونے والے مظالم اور جارحانہ صیہونی پالیسیوں کی براہِ راست اخلاقی و سیاسی ذمہ داری اپنے سر نہیں لینا چاہتیں۔
’’ منصور عباس کا خیال تھا کہ وہ شہریوں کے سول مسائل حل کر لیں گے، لیکن 2021 کے تجربے نے اس کی حدود واضح کر دیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کا نام نہاد اعتدال پسند اپوزیشن بھی منصور عباس کو صرف اس لیے مکمل طور پر ہضم نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ایک عرب ہیں۔ ان کی شمولیت یہودی سیاسی بالادستی کو چیلنج کرتی ہے۔‘‘
ووٹنگ کے رویوں پر بات کرتے ہوئے پروفیسر غانم نے اعتراف کیا کہ عرب ووٹروں کا ٹرن آؤٹ ہمیشہ یہودی ووٹروں کے 75 فیصد کے مقابلے میں نہایت ہی کم یعنی 50 سے 53 فیصد کے درمیان رہا ہے۔
انہوں نے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا؛’’اس کم ٹرن آؤٹ کی ایک وجہ تو ڈیموگرافی ہے، کیونکہ عرب آبادی نوجوان ہے اور 18 سال سے کم عمر افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن اصل اور گہری وجہ عدم اعتماد ہے۔ فلسطینی شہری نہ صرف اسرائیلی ریاست پر اعتماد نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنی سیاسی قیادت سے بھی بدظن اور مایوس ہو چکے ہیں۔ قیادت کے باہمی انتشار نے عوام کو ووٹنگ کے عمل سے بیزار کر دیا ہے۔ وادی نسناس اور حیفہ کے گلی کوچوں میں ووٹر یہ سوال کرتے تھک چکے ہیں کہ ‘ہم کتنی بار ووٹ دیں جب کچھ بدلتا ہی نہیں؟‘‘
اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل کے فلسطینی عرب شہری جن لرزہ خیز نفسیاتی، جذباتی اور مادی تضادات سے گزر رہے ہیں، وہ جدید تاریخ کی شاذ و نادر مثالوں میں سے ہے۔ وہ خود کو بیک وقت تین جنگوں کے دہانے پر کھڑا پاتے ہیں۔ ایک طرف غزہ کی تباہی، نسل کشی اور انسانی المیہ ہے، جس کی اذیت وہ ایک ہی قوم، زبان اور خونی رشتے کے تحت اپنے سینوں پر جھیل رہے ہیں۔ دوسری طرف، وہی فلسطینی شہری اسرائیلی حدود میں رہتے ہوئے حزب اللہ کے راکٹوں اور ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بھی بن رہے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں الجلیل کے قصبے مجد الکروم میں حزب اللہ کے راکٹ سے دو عرب نوجوان شہید ہوئے۔ شفا عمرو میں زیتون کے باغات میں کام کرتے ہوئے ماں بیٹا لقمہ اجل بنے۔ جون 2025 میں طمرہ کے اندر ایرانی میزائل ایک تین منزلہ رہائشی مکان پر گرا، جس میں ایک ہی خاندان کی چار عرب خواتین جاں بحق ہو گئیں۔
حیفہ کے ایک فلسطینی شہری، خلود احمدکے مطابق ’’ہم نے غزہ کی بربادی کو تڑپ کے ساتھ دیکھا ۔ ان کے ساتھ ہمارا خون اور تاریخ مشترک ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ہم حزب اللہ کے راکٹوں اور ایران کے میزائلوں سے اپنی جانیں بچانے کے لیے شیلٹرز ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘ لیکن ان شیلٹرز میں بھی نسلی عصبیت کا بھیانک چہرہ نمایاں تھا۔عرب قصبہ مجد الکروم کے اسسٹنٹ میئر علائ قدح نے راقم کو بتایا کہ 15 ہزار سے زائد آبادی والے عرب قصبے میں بمشکل 10 آؤٹ ڈور پناہ گاہیں تھیں، جس کی وجہ سے بلدیہ کو نکاسی آب کے بڑے کنکریٹ کے پائپوں کو سڑکوں پر رکھ کر لوگوں کے لیے عارضی شیلٹر بنانے پڑے۔ یہ امتیازی سلوک اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اسرائیلی ریاست اپنے ہی ٹیکس دہندہ عرب شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے معاملے میں کس قدر لاپرواہ ہے۔
اس متضاد شناخت کی چوٹ صرف عام بستیوں تک محدود نہیں ہے۔ حیفہ کی نامور ٹینس اسٹار نادینہ فہوم کی کہانی اس ذہنی انتشار کی عکاس ہے۔ وہ پہلی عرب مسلم لڑکی تھیں جنہوں ایک عرصہ قبل یوتھ اولمپکس اور 30 سے زائد ممالک میں اسرائیل کی نمائندگی کی ۔ انہیں اسرائیل کی ثانیہ مرزا بھی کہا جاتا تھا۔ لیکن جب وہ بیرونِ ملک مقابلے کے لیے روانہ ہوئیں، تو سینے پر اسرائیل کا بیج سجا ہونے کے باوجود ایئرپورٹ سکیورٹی نے عربی نام دیکھ کر انہیں قطار سے الگ کر کے گھنٹوں توہین آمیز تفتیش کا نشانہ بنایا۔ نادینہ بالآخر امریکہ منتقل ہو گئیں۔
سماجی سطح پر نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نومبر 2025 کے موشے دایان سینٹر کے سروے کے مطابق 74.6 فیصد عربوں کا ماننا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہودیوں اور عرب شہریوں کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر گر چکے ہیں۔ ستمبر 2025 کے اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق، عرب معاشرے کے لیے الیکشن میں سب سے بڑا مسئلہ منظم جرائم اور گینگ وار کا سدباب ہے۔
پروفیسر غانم کا کہنا ہے 7 اکتوبر 2023سے پہلے بھی عرب آبادی برابر کے شہری نہیں تھے۔ ’’لیکن آج ہماری باقاعدہ شہریت شدید خطرے میں ہے۔ اسرائیلی سیاست اور رائے عامہ میں یہ سوچ گہری ہو چکی ہے کہ اندرون کے فلسطینیوں کے شہری حقوق مزید سلب کر لیے جائیں۔‘‘
ان کے مطابق مستقبل کی راہ بے حد کٹھن ہے لیکن وہ مایوسی کے باوجود سر تسلیم خم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ان کا خیال ہے کہ آج 1990 کی دہائی کی طرح دائیں اور بائیں بازو میں توازن باقی نہیں رہا ہے۔ پوری اسرائیلی ریاست دائیں بازو کے قبضے میں ہے۔ لیکن فلسطینی شہری بھی اپنی شناخت اور آئینی حقوق سے کسی صورت میں دستبردار نہیں ہوں گے۔’’ طویل مدتی حل یہ ہے کہ اسرائیل کے نسلی اور خصوصی یہودی تشخص کے ڈھانچے کو توڑا جائے اور اسے تمام شہریوں کی برابری پر مبنی جمہوری ریاستبنایا جائے۔ اگرچہ خطے کی صورتحال اور نتن یاہو کی فسطائیت کو دیکھتے ہوئے میں زیادہ پرامید نہیں ہوں، لیکن اپنے حقوق اور وجود کی جدوجہد کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی موجود نہیں ہے۔‘‘
موجودہ اسرائیلی انتخابات درحقیقت اس امر کا فیصلہ نہیں کریں گے کہ نتن یاہو اقتدار میں رہیں گے یا نہیں، اور نہ ہی وہ فلائی دبئی کے مشتبہ سکیورٹی ڈراموں کی نذر ہونے والی انتخابی فضا کو یکسر پلٹ سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کا پانچواں حصہ کہلانے والا فلسطینی عرب طبقہ اپنی بے وزنی، تذبذب اور بائیکاٹ کے خول سے باہر نکل کر خود کو ایک ناقابلِ تسخیر سیاسی طاقت بنا پائے گا؟ یا پھرتل ابیب اور مغربی یروشلم کے حکمران طبقے انہیں اسی طرح دوسرے درجے کا شہری بنا کر اپنے جمہوری نعرے کی جھوٹی رونق کے طور پر استعمال کرتے رہیں گے۔

