برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں

PTI09 13 2026 000155B 1200x600 1


تمام تضادات کے باوجود، نئی دہلی کی اس سمٹ میں حاصل ہونے والی ٹھوس سفارتی کامیابی کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گیارہ ایسے ممالک کو، جن کے تزویراتی مفادات ایک دوسرے سے یکسر متضاد اور متصادم ہیں، ایک جامع اور متفقہ اعلامیے پر رضامند کر لینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ ہندوستانی حکومت خارجہ امور میں ٹھوس حکمت عملی کے بجائے سطحی نمائش اور سیاسی شعبدہ بازی پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔

فوٹو: پی ایم او وایا پی ٹی آئی۔
فوٹو: پی ایم او وایا پی ٹی آئی۔

حال ہی میں نئی دہلی میں برکس کے رہنماؤں کا ایک سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس نے موجودہ جغرافیائی و اسٹریٹجک فضا اور روس، چین، متحدہ عرب امارات اور ایران کے سربراہان کی شرکت کے پیش نظر غیر معمولی اہمیت حاصل کر لی۔ ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے ہندوستان نے امریکہ اور اسرائیل کے گرد گھومتی اپنی روایتی پالیسی سے پہلو تہی اختیار کی ہے، جسے ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ رُخ کب تک قائم رہے گا۔ کیونکہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ  وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ ہندوستانی حکومت خارجہ امور میں ٹھوس حکمت عملی کے بجائے سطحی نمائش اور سیاسی شعبدہ بازی پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔

میں نے برکس تنظیم کو کو تقریباً اُس کے سفارتی دورِ طفولیت سے پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ یہ 16 جون 2009 کی بات ہے جب میں اُس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہمراہ بطور صحافی ان کے پریس وفد میں شامل ہو کر روس کے تاریخی شہر یکاترن برگ  جس کو قطرینہ برگ بھی کہتے ہیں پہنچا تھا۔

یہ اس تنظیم کا پہلا باضابطہ سربراہی اجلاس تھا، جسے اُس وقت محض ”برک“پکارا جاتا تھا،یعنی برازیل، روس، ہندوستان اور چین کا ایک ابتدائی چہار فریقی اشتراک۔ اُس وقت تک جنوبی افریقہ نے اس اتحاد کو مکمل کرنے کے لیے نام کا آخری حرف ”ایس“فراہم نہیں کیا تھا۔

قطرینہ برگ کا جغرافیائی اور تاریخی پس منظر بذاتِ خود ایک ایسے سیاسی تجربے کے لیے انتہائی علامتی اور موزوں تھا جو بیک وقت دو متضاد جہانوں اور تمدنوں کے مابین ایک پل بننے کی جستجو میں تھا۔ یہ تاریخی شہر کوہِ یورال کے عین مشرق میں، یورپ اور ایشیا کے روایتی جغرافیائی خطِ امتیاز پر واقع ہے۔

روسی تاریخ کے اوراق میں بھی اس شہر کی ایک خاص شناخت ہے؛ یہ وہی جگہ ہے جہاں 1918 میں بالشویک انقلابیوں نے روس کے آخری زار، شہنشاہ نکولس دوم اور ان کے پورے شاہی خاندان کو قتل کر دیا تھا۔

لفظ ”برک“کا یہ اختصار دراصل 2001 میں معروف سرمایہ کار بینک گولڈمین سیکس کے ماہرِ معاشیات جم او نیل  نے ایجاد کیا تھا۔ اس کا مقصد دنیا کی اُن چار بڑی اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کی نشاندہی کرنا تھا جن کے بارے میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ وہ آئندہ دہائیوں میں عالمی معاشی نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی۔

سال 2008 کے تباہ کن عالمی مالیاتی بحران نے اس وال اسٹریٹ بینکاری اصطلاح کو اچانک معاشی کاغذات سے نکال کر ایک غیر معمولی اور انتہائی سنجیدہ سیاسی حقیقت میں تبدیل کر دیا۔

اسی لیے قطرینہ برگ کے پہلے سربراہی اجلاس کا سارا زور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں بنیادی اصلاحات، 2008 کے عظیم عالمی معاشی بحران  سے بحالی کے راستے تلاش کرنے، خوراک کے تحفظ، اور عالمی فیصلہ سازی میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی منصفانہ نمائندگی پر مرکوز تھا۔ اس ابتدائی دور میں برک کسی متبادل یا متوازی عالمی نظام کے قیام کا کوئی انقلابی وعدہ نہیں کر رہا تھا۔

اس کا مؤقف کہیں زیادہ نپا تلا اور حقیقت پسندانہ تھا: یعنی دنیا کے مروجہ نظام کو اب غیر معینہ مدت تک اس طرح سے چلانا ممکن نہیں رہا گویا عالمی معاشی طاقت کا مرکز مغرب سے منتقل ہی نہ ہوا ہو۔

یہ سمٹ میرے لیے ایک اور ڈرامائی وجہ سے بھی ناقابل فراموش رہے گا۔ عین اسی دوران وہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا اجلاس بھی منعقد ہو رہا تھا، جس کے نتیجے میں ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور پاکستان کے اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے مابین ایک دوطرفہ ملاقات ممکن ہو سکی۔

نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد، جس نے ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو مکمل طور پر منجمد کر کے رکھ دیا تھا، اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس ملاقات کا آغاز اپنے روایتی دھیمے لہجے کے برعکس غیر معمولی طور پر سخت اور دوٹوک انداز میں کیا۔ انہوں نے کمرے میں موجود کیمروں اور تصاویر بناتے ہوئے صحافیوں کے سامنے صدر زرداری سے براہِ راست مخاطب ہو کر کہا؛


جنابِ صدر، میرا مینڈیٹ یہ ہے کہ میں آپ سے دوٹوک کہوں کہ پاکستان کی سرزمین کو ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے قطعی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔


ہم جیسے صحافیوں کے لیے جو اس تاریخی موقع کو کور کر رہے تھے، منموہن سنگھ کا یہ ایک ہی جملہ ہندوستانی میڈیا میں ایسا موضوع بنا کہ اس نے نوخیز برک سمٹ کی تمام تر معاشی اور سفارتی اہمیت کو پوری طرح دبا دیا۔

اگلے برس، اپریل 2010 میں، مجھے ایک بار پھر ڈاکٹر منموہن سنگھ کے پریس وفد کے ہمراہ برازیل کے دارالحکومت برازیلیاجانے کا موقع ملا جہاں دوسرا برک سمٹ ہو رہا تھا۔

یہ اجلاس میرے ذہن پر خاص طور پر اس لیے نقش ہے کیونکہ اس سے یہ بات بالکل عیاں ہو گئی تھی کہ ہندوستان اس تنظیم کو وسعت دینے اور نئے ممالک کو شامل کرنے کے کس قدر خلاف تھا۔

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا جنوبی افریقہ کو اس فورم پر لانے کے لیے انتہائی پرجوش تھے۔ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما خود برازیلیا پہنچ چکے تھے، اور سمٹ کے گلیاروں میں یہ عام تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ افریقی براعظم کی یہ سب سے بڑی سفارتی اور سیاسی قوت اب برک کا حصہ بن جائے گی۔لیکن نئی دہلی مخالفت پر کمربستہ تھا۔

میری یادداشت کے مطابق، ہندوستانی وفد کا اصرار تھا کہ برک ابھی ایک نوخیز اور غیر مستحکم نظام ہے اور نئے ارکان کے لیے دروازے کھولنے سے پہلے اسے داخلی طور پر مضبوط اور مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

نتیجے کے طور پر  ہندوستان کی  مزاحمت اور تحفظات کے بعد جیکب زوما کو اجلاس میں شرکت کیے بغیر ہی مایوس اور بے رنگ اپنے وطن لوٹنا پڑا۔

تاہم، برازیلیا کے اس اجلاس کے فوراً بعد تاریخ کا ایک غیر متوقع اور دلچسپ موڑ سامنے آیا۔آئس لینڈ میں ایک آتش فشاں کے اچانک پھٹنے کے باعث راکھ اور دھوئیں کے گہرے بادل پورے یورپ پر چھا گئے، جس سے یورپ کی تمام فضائی پروازیں معطل ہو گئیں۔ واپسی کے سفر پر ہندوستانی وزیر اعظم کے خصوصی طیارے کو ایندھن بھرنے کے لیے فوری طور پر ایک متبادل راستے اور اسٹاپ اوور کی ضرورت پیش آگئی۔

اس غیر متوقع بحران میں پورے خطے کے اندر جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے سوا اور کوئی متبادل راستہ میسر نہ تھا۔ اگرچہ ہندوستان نے برازیلیا میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کی راہ روک کر پریٹوریا کو خاصا ناراض اور مایوس کر دیا تھا، مگر ہندوستانی وزیر تجارت آنند شرما نے، جن کی اہلیہ جنوبی افریقی نژاد تھیں، اپنے ذاتی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ہنگامی تکنیکی لینڈنگ کی سہولت حاصل کر لی۔

رات گئے جب ہندوستانی وزیر اعظم کا طیارہ جوہانسبرگ کے ہوائی اڈے پر اترا، تو خود صدر جیکب زوما اپنی کابینہ کے اعلیٰ ترین ارکان کے ہمراہ منموہن سنگھ کا استقبال کرنے ائیرپورٹ پر موجود تھے۔

لیکن یہاں ایک نیا تماشہ کھڑا ہو گیا؛ وزیر اعظم کے ساتھ موجود ہندوستانی اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) نے منموہن سنگھ کو جہاز سے نیچے اترنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ ائیرپورٹ کو ایس پی جی کے سخت حفاظتی پروٹوکول کے مطابق سکیورٹی کلیئرنس نہیں ملی تھی۔

بالآخر کافی تگ و دو کے بعد جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ مائیتے نکوانا مشابانے کو طیارے کے اندر جا کر ہندوستانی وزیر اعظم سے مختصر رسمی ملاقات کی اجازت دی گئی۔

  بسا اوقات ہوائی اڈوں کے رن وے پر قائم ہونے والے تاثرات تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے اس اعلیٰ ظرفانہ اور غیر معمولی خیر سگالی کے جذبے نے نئی دہلی کی روایتی ہچکچاہٹ اور مخالفت کو اندر سے پگھلا دیا۔ ٹھیک ایک سال بعد، 14 اپریل 2011 کو چین کے ساحلی شہر سانیا  میں جیکب زوما برکس کے تیسرے سربراہی اجلاس کی میز پر بطور مکمل رکن تشریف فرما تھے۔

ہندوستان نے اپنے تمام خدشات کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔جس توسیع کے بارے میں کبھی نئی دہلی کو یہ خوف لاحق تھا کہ وہ برکس کی افادیت کو گھٹا دے گی، وہی وسعت آج اس تنظیم کے عالمی وزن اور جغرافیائی سیاسی اہمیت کا سب سے بڑا ستون اور حوالہ بن چکی ہے۔

ہندوستان کی اسی طرح کی مزاحمت نومبر 2014 کے کاٹھمندوسارک سمٹ کے دوران  بھی دیکھنے کو ملی، جب نیپال نے غیر رسمی اجلاس میں چین کو بھی تنظیم میں شامل کرکے کی تجویز پیش کی۔

ہندوستان نے اس تجویز کو باضابط اجلاس میں پیش ہی نہیں ہونے دیا اور اس کے بعد سارک کا کوئی سربراہ اجلاس بھی منعقد نہیں ہونے دیا۔ نیپال میں ہوئی حالیہ تباہی بتاتی ہے کہ ماحولیات سے لےکر دیگر ایشوز کو لیکر جنوبی ایشیاء کے معاملات میں چین کو شامل کرنا اب اشد ضروری ہوگیا ہے۔

خیر ذکر برکس کا ہو رہا تھا۔ جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک برکس پانچ ارکان پر مشتمل ایک مربوط، منظم اور باوقار فورم رہا۔ اس دوران تنظیم نے کئی اہم ادارے تشکیل دیے، جن میں خاص طور پر ’نیو ڈیولپمنٹ بینک‘ (این ڈی بی) قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ تجارت، صحت، ٹکنالوجی، ترقیاتی فنانس اور سفارتی ہم آہنگی کے شعبوں میں تعاون کو بتدریج وسعت دی گئی، اور یہ دائرہ خاصا قابلِ انتظام تھا۔

تاہم، 2023 کے جوہانسبرگ سمٹ میں اس پانچ رکنی کلب کو غیر معمولی وسعت دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو اس وسیع تر فریم ورک میں شامل کیا گیا، جس کے بعد 2025 میں انڈونیشیا بھی اس بلاک کا حصہ بن گیا۔

برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ کے ہمراہ مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کا یہ 11 رکنی پلیٹ فارم اب دنیا کا ایک نیا نقشہ کھینچ رہا ہے۔

مگر اس تیز رفتار توسیع نے اپنے جلو میں ایک سنگین چیلنج بھی پیدا کر دیا ہے۔اس تضاد کا سب سے کٹھن امتحان دہلی سربراہی اجلاس میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب مشرقِ وسطیٰ کا بحران زیرِ بحث آیا۔ ایران اب برکس کا باضابطہ رکن ہے، اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات بھی اس میز کے شریک ہیں۔

اس سے قبل مئی میں جب دہلی میں برکس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، تو وہ سنگین اختلافات کے سبب کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں مکمل ناکام رہے تھے۔

لہٰذا، ستمبر میں ہونے والے اس رہنماؤں کے اجلاس میں ایک متفقہ لیڈرز ڈیکلریشن  کا جاری ہونا ہرگز یقینی نہیں تھا۔ لیکن نئی دہلی نے بڑی باریک سفارتی جادوگری سے بالآخر یہ مشترکہ اتفاقِ رائے حاصل کر ہی لیا۔

نئی دہلی کے مشترکہ اعلامیے میں مغربی ایشیا کی تشویشناک اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی، بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا گیا، اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں و تجارتی قدغنوں کو مسترد کیا گیا۔

برکس نے ایران اور اس کے خلیجی حریفوں کو ایک ہی میز پر آمنے سامنے بٹھا تو دیا، اور ایسا محتاط بیانیہ بھی تراش لیا جس پر سب نے دستخط کر دیے، لیکن وہ ان کے متضاد تزویراتی مفادات کو کسی مشترکہ خارجہ پالیسی میں تبدیل نہیں کر سکا۔

سمٹ کی سائیڈ لائنز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ایک نجی ملاقات کی۔

جبکہ بیشتر غیر ملکی سربراہانِ مملکت اور مندوبین سرکاری پروٹوکول اور سمٹ کے سخت حفاظتی حصار تک ہی محدود رہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس دورے کو عوامی سفارت کاری کے ایک وسیع میدان میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔اس دورے کی سب سے حیرت انگیز اور انوکھی محفل دارالحکومت کے دی اوبرائے  ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کو یادگار بنانے والی چیز محض ایرانی صدر کی موجودگی نہیں تھی، بلکہ اس ہال میں موجود افراد کا وہ تنوع اور سماجی امتزاج تھا جس کی آج کے ہندوستان میں کم ہی مثال ملتی ہے۔

وہاں ہندو و مسلم مذہبی رہنما، سکھ گیانی، کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق، بڑے صنعتکار، تجربہ کار سفارت کار اور مختلف الخیال دانشور ایک چھت کے نیچے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے۔

بعد میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں کشمیری رہنماؤں کے ایک وفد سے الگ ملاقات کی، جس میں شیعہ رہنما آغا سید حسن موسوی اور مولوی عمران رضا انصاری بھی شریک تھے۔

میرواعظ نے بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کے تناظر میں مسلم امہ کے درمیان فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر باہمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا، اور کشمیر و ایران کے صدیوں پرانے تاریخی و ثقافتی رشتوں کی علامت کے طور پر ایرانی صدر کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کا اخروٹ کی لکڑی سے بنا خوبصورت ماڈل پیش کیا۔

تہران کے پیشِ نظر صرف رسمی دوطرفہ تعلقات نہیں تھے۔ مغرب نے برسوں کے بیانیے کے ذریعے ایران کو ایک الگ تھلگ، پابندیوں میں جکڑے ہوئے اور تخریب کار ملک کے طور پر پیش کیا تھا۔

نئی دہلی کے پلیٹ فارم نے پزشکیان کو ایک بین الاقوامی اسٹیج فراہم کیا، جہاں وہ مغرب کے اس گھڑے ہوئے منفی تاثر کو دنیا بھر کے سامنے مؤثر طریقے سے چیلنج کر سکیں۔ وہ وہاں صرف کسی جنگ زدہ اور معتوب ملک کے نمائندے کے طور پر نہیں آئے تھے، بلکہ وہ ایک قدیم تمدن، ایک اہم ایشیائی ریاست، اور دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل ایک عظیم الشان بلاک کے باوقار شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

اس سفارت کاری میں ان کی صاحبزادی زہرا پزشکیان نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے دیگر سربراہان کے اہلِ خانہ کے ہمراہ دہلی کے برکس بازار کا دورہ کیا، ہندوستانی دستکاروں کے فن پاروں کی تعریف کی، اور پرائم منسٹرز میوزیم کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔

اس اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ کی بالمشافہ شرکت بھی کم تاریخی اور اہم نہیں تھی۔ 2020 میں وادیِ گلوان کے خونریز سرحدی تصادم اور سالہا سال سے جاری برفانی تعطل اور کشیدگی کے بعد یہ تقریباً سات برسوں میں شی جن پنگ کا پہلا دورہ ہندوستان تھا، جو بذاتِ خود ایک بڑا سفارتی اشارہ تھا۔

دونوں نے تسلیم کیا کہ سیاسی اختلافات کو خودکار طور پر براہِ راست تصادم یا خطرناک جھگڑوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔اسی طرح روسی صدر ولادیمیر پوتن کا دہلی کا دورہ اس تاریخی تزویراتی تعلق کی تجدید تھا جسے نئی دہلی مغربی دنیا کے بدترین دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود کسی بھی قیمت پر قربان کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ہندوستانی میڈیا کے لیے اس سمٹ کی کامیابی کا روایتی پیمانہ وہی پرانا اور جانا پہچانا تھا۔نئی دہلی اعلامیے میں اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گرد حملے کی باضابطہ اور خصوصی مذمت شامل کی گئی تھی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برکس کے کسی مشترکہ اعلامیے میں اس حملے کی مذمت کا یہ مسلسل دوسرا سال تھا۔ متن میں دہشت گردی کے خلاف “زیرو ٹالرینس” کی تجدید کی گئی، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور احتساب کا مطالبہ کیا گیا، اور یہ اصول دہرایا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب یا قومیت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس پیراگراف کا شامل ہونا ہندوستان کے داخلی حلقوں میں روایتی طور پر سراہا گیا۔

لیکن اس عمل نے دہلی کے ایک پرانے اور تھکے ہوئے سفارتی فارمولے کی یاد تازہ کر دی۔ کئی دہائیوں سے ہندوستانی وفود اپنی تمام تر توانائیاں اور سفارتی سرمائے کا بڑا حصہ اس بات پر صرف کرتے رہے ہیں کہ کسی بھی کثیر قومی یا دوطرفہ اعلامیے میں دہشت گردی کی مذمت پر مشتمل سخت اور کرارے الفاظ داخل کروا دیے جائیں۔دہشت گردی کی مذمت کرنے پر دنیا میں کسی کو کوئی اصولی اعتراض نہیں ہوتا۔ اصل اور کٹھن بحث اس وقت شروع ہوتی ہے جب علامتی الفاظ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی بات کی جائے۔

ایک جرمن سفارت کار نے برسوں پہلے مجھ سے نجی گفتگو میں کہا تھا کہ جب بھی کسی بین الاقوامی اعلامیے میں لفظ ”دہشت گردی“ شامل ہو جاتا ہے تو ہندوستانی سفارت کار اور میڈیا اسے اپنی غیر معمولی سفارتی فتح کے طور پر مناتے ہیں۔ لیکن جب بحث اس بات پر منتقل ہو جائے کہ انتہا پسندی اور تشدد کی اصل بنیادی وجوہات کیا ہیں، ان کے پائیدار سیاسی حل کیا ہیں، اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے روکنے کے ٹھوس انتظامی اور سفارتی راستے کیا ہو سکتے ہیں، تو ہندوستانی وفد کی دلچسپی اچانک ماند پڑ جاتی ہے۔

اگر آپ ہندوستانی وفد کے کسی بھی رکن سے یہ سوال پوچھیں کہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کی جڑیں کہاں ہیں، تو وہ بغیر ایک سیکنڈ ضائع کیے فوری طور پر پاکستان کی طرف انگلی اٹھا دے گا۔ لیکن اگر آپ اس سے یہ منطقی سوال پوچھیں کہ وہ کون سا قابلِ عمل سیاسی و سفارتی عمل ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں پاکستان، ہندوستان کے خلاف استعمال نہ ہو، تو گفتگو فورا گنجلک، پیچیدہ اور مبہم ہو جاتی ہے۔

یہ تضاد اب بالکل عیاں ہو چکا ہے: اگر ہندوستان کو  پاکستان کے ساتھ مسائل درپیش ہے، تو دیر یا سویر کوئی نہ کوئی جامع حکمت عملی، سفارتی مکالمہ، دباؤ، یا ترجیحاً دونوں کا مربوط امتزاج ناگزیر ہوگا۔

مزید دہشت گردی کے سبب و وجوہات کو بھی پرکھنا ہوگا۔شاید ان کا حل آپ کے داخلی نظام میں ہی موجود ہو۔ آپ محض مسئلے کی بار بار نشاندہی کر کے اسے مسئلے کو حل کرنے کی مستقل حکمت عملی کا متبادل نہیں بنا سکتے۔

اس صورتحال کی ایک دلچسپ جھلک مجھے 2016 کے گوا سمٹ سے قبل یاد آتی ہے جب میں برکس میڈیا فورم میں شریک ہندوستانی ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھا۔ ایک بند کمرے کی بحث کے دوران جہاں مختلف شعبوں کے لیے برکس کے ’سینٹرز آف ایکسی لینس کے قیام پر بات ہو رہی تھی، ایک سینئر چینی مندوب نے تجویز دی کہ بیجنگ کو ٹکنالوجی اور فنانس کا ادارہ ملنا چاہیے، برازیل کو کھیلوں کا مرکز، جنوبی افریقہ کو ثقافت اور ماسکو کو علاقائی سلامتی کا مرکز بنانا چاہیے۔

پھر اس نے ہندوستان کا رخ کیا۔ چینی مندوب نے قدرے طنزیہ اور مسکراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران انہوں نے ہندوستانی وفد کی جو بھی تقریر سنی ہے، اس میں دہشت گردی کے سوا کوئی اور موضوع چھیڑا ہی نہیں گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کو عالمی مالیات کے نئے ڈھانچے، سکیورٹی، سائنس، آرٹ یا ثقافت جیسے دیگر موضوعات کی چنداں پروا نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے مشورہ دیا کہ ہندوستان کو ”دہشت گردی کا سینٹر آف ایکسی لینس“ الاٹ کر دیا جائے۔

اس چبھتے ہوئے فقرے پر پورے کمرے میں ایک گہرا اور ناگوار سناٹا چھا گیا۔ اس طنز کے بعد کچھ ہندوستانی ایڈیٹرز نے سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا ہم واقعی دہشت گردی کے بیانیے کے جنون میں معیشت، تجارت، نئی مالیاتی ساختوں، ٹکنالوجی اور دیرپا اداروں کی تعمیر جیسے تمام کلیدی بین الاقوامی معاملات کو مکمل نظر انداز تو نہیں کر رہے؟

یہ واقعہ اپنی جگہ کتنا ہی طنزیہ سہی، لیکن یہ بنیادی سوال آج بھی پہلے سے زیادہ سنگین ہے۔ دہشت گردی بلاشبہ ایک ہولناک اور سنگین چیلنج ہے، لیکن سفارتی کامیابی کا اندازہ لا متناہی طور پر صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ آپ نے کتنے بین الاقوامی مشترکہ اعلانیوں میں یہ مخصوص لفظ زبردستی درج کروایا ہے۔ وہ اسباب و عوامل جنہوں نے اس بیزاری، تشدد اور کشیدگی کو جنم دیا ہے، ان کا بھی تو تدارک کرنا ہوگا۔

یہی صورتحال مودی حکومت کے مجموعی بین الاقوامی رویے اور خارجہ پالیسی کے ایک کہیں زیادہ گہرے اور سنگین تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ برکس جیسے بین الاقوامی فورمز پر ہندوستانی وزیر اعظم نے  بار بار خطوں کو جوڑنے، بات چیت، لچک اور سفارت کاری کی پرزور وکالت کی۔

ہندوستان نے خود کو دنیا کے سامنے ایک ایسی معتبر اور غیر جانبدار قوت کے طور پر پیش کیا جو بیک وقت روس اور یوکرین سے مکالمہ کر سکتی ہے، ایران اور خلیجی شاہی ریاستوں کے درمیان کھڑی ہو سکتی ہے، اسرائیل اور فلسطین سے بیک وقت رابطہ رکھ سکتی ہے، اور امریکہ اور چین دونوں سے متوازی تعلقات استوار رکھ سکتی ہے۔ عالمی اسٹیج پر نئی دہلی نے من پسند اور پسندیدہ ترین الفاظ امن، مفاہمت، ہم آہنگی، تکثیریت، جامعیت اور اصلاحات ادا کیے۔

لیکن جیسے ہی آپ انہی خوبصورت، مہذب اور آفاقی اصولوں کو خود جنوبی ایشیا کے خطے پر نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو سارا منظرنامہ اچانک دھندلا اور تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔

جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘  2016 کے اسلام آباد سمٹ کے اچانک منسوخ ہونے کے بعد سے عملی طور پر کوما میں جا چکی ہے اور مفلوج ہو چکی ہے۔  تاریخ کا یہ کیسا المیہ اور ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر تو اس اصول کی وکالت کرتا ہے کہ کٹر حریفوں کو بھی لازماً ایک ہی میز پر اکٹھے بیٹھنا چاہیے، مگر خود اپنے ہی پڑوس اور صحن کی اہم ترین علاقائی تنظیم کو اس لیے مفلوج کر دیا گیا ہے کیونکہ خطے کے دو سب سے بڑے رکن ملک ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے پر راضی نہیں ہیں۔

اسی طرح وزیر اعظم مودی کا یہ عالمی نعرہ کہ ”یہ دور جنگ کا نہیں ہے“، ہندوستان کے اپنے ہی علاقائی عسکری ڈاکٹرائن سے صریح تضاد رکھتا ہے جو سزا دینے اور تادیبی عسکری کارروائیوں کے گرد گھومتا ہے۔ داخلی سطح پر ’آپریشن سیندور‘ کو یہ کہہ کر ایک نیا معمول قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ ہندوستان، پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر گھس کر نشانہ بنانے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ کیا کسی ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا باہمی مکالمہ، تدبر، ضبط اور سفارت کاری واقعی وہ آفاقی اور ناقابلِ تنسیخ اصول ہیں جن پر عمل ہونا چاہیے، یا یہ محض وہ خوشنما نصیحتیں ہیں جو صرف دور دراز ممالک کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی مائیک پر پیش کی جاتی ہیں؟

اگر ہندوستان یہ چاہتا ہے کہ روس اور یوکرین مذاکرات کی میز پر آئیں؛ اگر وہ ایران اور اس کے کٹر مخالفین کو صبر و تحمل کی پند و نصائح کرتا ہے؛ اوراگر وہ چین سے یہ استدعا کرتا ہے کہ اختلافات کو تصادم میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے،تو پھر وہی معقول منطق اور فہم و فراست واہگہ بارڈر اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار جاتے ہی اچانک کیوں دم توڑ دیتی ہے؟

برکس کی تقاریر میں ہندوستان نے بالکل درست اور بجا طور پر یہ اصرار کیا کہ کسی ایک سیاسی یا نظریاتی نظام کو پوری دنیا پر مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مختلف تہذیبوں کی اپنی منفرد اور شاندار تاریخیں ہوتی ہیں۔

تمام ممالک کو ایک دوسرے کی حاکمیت، آزادی اور ثقافتی تنوع کا صدقِ دل سے احترام کرنا چاہیے۔ اور یہ کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو زیادہ جمہوری اور نمائندہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مگر کیا وقت نہیں آیا ہے کہ اپنے ہی گھر کی چاردیواری کے اندر تکثیریت اور جمہوری اقدار کی کس حد تک پاسداری ہو رہی ہے۔شہریت کا ترمیمی قانون (سی اے اے)، ”بلڈوزر مسماریاں“، تبدیلی مذہب کے خلاف بنائے گئے سخت قوانین، سول سوسائٹی کے آزاد اداروں اور تنظیموں کا روز بروز گھٹتا ہوا دائرہ کار، اور انتخابی مہمات کے دوران اقلیتوں کے خلاف استعمال ہونے والی کھلی فرقہ وارانہ زبان،یہ تمام وہ زمینی کڑوی سچائیاں ہیں جو برکس جیسے بلند پایہ بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے تمام فلسفیانہ دعووں کے بالکل برعکس ہیں۔

HSBnuG aoAAs62c
نئی دہلی میں 12 ستمبر کو ہندوستان کی طرف سے منعقدہ برکس رہنماؤں کے عشائیہ کا مینو۔

 تمدنی تنوع اور بین الاقوامی کثرتیت کے اس شاندار سمٹ کے اختتام پر ایک آخری اور سب سے دلچسپ تضاد ہندوستان منڈپم کے اس شاہی عشائیے کی میز پر نظر آیا جس کی میزبانی خود وزیر اعظم مودی کر رہے تھے۔

یہ پرشکوہ گالا ڈنر مکمل طور پر گوشت سے پاک، یعنی خالص سبزی خور (ویجیٹیرین)  مینو پر مشتمل تھا۔ہندوستان کے یہ پیچیدہ اور خالص سبزی خور سفارتی دسترخوان اب اس کی نرم سفارت کاری  کی صلاحیتوں کے لیے ایک امتحان بنتے جا رہے ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ اس گالا ڈنر میں شریک نہیں ہوئے، اور نہ ہی ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد اس شاہی عشائیے میں نظر آئے۔

شاید ان میں سے کوئی بھی رہنما اپنی پوری قیمتی شام کھانڈوی مِلے فوئی، کھمب گلوٹی، گچھی مارمک اور تھکالی بیلے سارو کے اجزائے ترکیبی کو سمجھنے کی نذر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عشائیہ میں شرکت کے بعد کئی سربراہان مملکت نے ہوٹل واپس پہنچ کر روم سروس کے ذریعے کھانا منگوایا۔

دہلی کی روایتی اور شہر آفاق بریانی، کباب، یا نلی نہاری کے بغیر یہ مینو اس ہندوستان کے حقیقی اور ثقافتی کھانوں کے تنوع سے بالکل کٹا ہوا اور اجنبی دکھائی دے رہا تھا، جس ملک کی ایک بڑی اکثریتی آبادی باقاعدگی سے گوشت خور کھانوں کا استعمال کرتی ہے۔

جنگوں، سنگین بین الاقوامی پابندیوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی ازسرنو تشکیل جیسے بڑے عالمی مسائل کے سامنے کھانے کی سفارت کاری شاید ایک معمولی سی بات لگے۔ مگر یہ اتنی معمولی بھی نہیں ہے۔

بین الاقوامی سربراہی اجلاس دراصل ایک وسیع تھیٹر کی مانند ہوتے ہیں، جہاں قومیں دنیا کے سامنے یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ اپنی شخصیت، تاریخ اور ثقافت کے کون سے پہلوؤں کو نمایاں کر کے دکھانا چاہتی ہیں۔ ایران نے دہلی کے اس فورم کو اپنی مذہبی کشادگی اور تاریخی تمدن کو دنیا پر آشکار کرنے کے لیے استعمال کیا۔

چین نے اپنی اقتصادی طاقت اور برتری کو اجاگر کیا۔ روس نے اپنی تزویراتی پائیداری کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ ہندوستان کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنے روایتی کھانوں، وسیع تنوع اور ہمہ جہت ثقافت کے ذریعے اپنی تمدنی فراخدلی کا دنیا پر نقش بٹھاتا۔

ان تمام تضادات کے باوجود، نئی دہلی کی اس سمٹ میں حاصل ہونے والی ٹھوس سفارتی کامیابی کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گیارہ ایسے ممالک کو، جن کے تزویراتی مفادات ایک دوسرے سے یکسر متضاد اور متصادم ہیں، ایک جامع اور متفقہ اعلامیے پر رضامند کر لینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔

ہندوستان کی سابق خارجہ سکریٹری نروپما راؤ نے اجلاس کے بعد کے نتائج کا خلاصہ انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا؛ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دراصل ”بغیر کسی ٹوٹ پھوٹ کے اصلاحات“  کا متلاشی ہے۔

ہندوستان چاہتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سطح پر باوقار نمائندگی ملے، یکطرفہ اقتصادی بلیک میلنگ اور پابندیوں سے نجات حاصل ہو، اور گلوبل ساؤتھ کو اپنے فیصلے خود کرنے کی مکمل آزادی میسر آئے؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مغربی منڈیوں، ٹکنالوجی اور مغربی سرمایہ کاری سے قطع تعلق کرنے یا انہیں چھوڑنے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ