مقبوضہ مشرقی یروشلم: غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بول دیا اور وہاں تلمودی رسومات ادا کیں۔
فلسطینی نیوز ایجنسی "وفا” کے مطابق، بدھ کے روز درجنوں غیر قانونی آبادکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے، صحن کا طواف کیا اور اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں مذہبی رسومات ادا کیں۔ وفا نے یہ اطلاع یروشلم گورنریٹ کے حوالے سے دی۔
واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جبکہ یہودی اس مقام کو "ٹیمپل ماؤنٹ” کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہاں قدیم یہودی عبادت گاہ موجود تھی۔
فلسطینیوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مشرقی یروشلم، بشمول مسجد اقصیٰ، پر قبضہ مضبوط کرنے اور اس کی عرب و اسلامی شناخت مٹانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد ان بین الاقوامی قراردادوں پر ہے جو 1967ء کے قبضے یا 1980ء کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر بین گویر بھی اس سے قبل سینکڑوں حامیوں کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں داخل ہو چکے ہیں اور یہودیوں کو وہاں مذہبی رسومات کی اجازت دینے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کرنے کے لیے عمر کی قید سمیت متعدد پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

