
(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے سائبیریا کے علاقے میں پھیپھڑوں کے طاعون کے مشتبہ کیس کے بعد روس کو مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دستیاب غیر سرکاری معلومات کے مطابق عام آبادی کے لیے صحت کا خطرہ فی الحال کم دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر روس کی مدد کے لیے تیار ہے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے اور انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اس معاملے پر بات نہیں کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس پر ہم ماضی میں قابو پانے کے قابل تھے، انہوں نے مزید کہا کہ بیماری کے جراثیم پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں اور ایسی ادویات جو ماضی میں نمونیا کے علاج میں مؤثر تھیں، اب بعض صورتوں میں کام نہیں کرتیں،صدر ٹرمپ نے کہا کہ جس کسی کو بھی اس طرح کا مسئلہ درپیش ہو، ہم مدد کریں گے۔
مزید پڑھیں:ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں؛ڈونلڈٹرمپ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی صورتِ حال کو فوری خطرے کی علامت قرار نہیں دیا، انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ تشویش کی بات ہے، لیکن اس پر توجہ دینا اور نظر رکھنا ضروری ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اسے موصول ہونے والی غیر سرکاری معلومات کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے صحت کا خطرہ بظاہر کم ہے۔
روس کے دور دراز سائبیریا کے علاقے ارکتسک میں طاعون سے متعلق ایک تحقیقی ادارے کے ملازم کی مشتبہ پھیپھڑوں کے طاعون سے موت کے بعد حکام نے ایک اسپتال کو قرنطینہ میں رکھا ہے اور متاثرہ شخص سے رابطے میں آنے والے افراد کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

