’رات کو سوتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں‘: قزاقوں کی قید سے واپس آئے یاسر کی کہانی

398964 1531261986


صومالی قزاقوں کی قید میں تقریباً 165 دن گزارنے کے بعد گھر واپس آئے کراچی کے یاسر خان کے لیے قید ختم ہو چکی، لیکن اس دوران پیدا ہونے والا خوف اب بھی ان کے ساتھ ہے۔

یاسر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’رات کو سوتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں کہ ایسا نہ ہو صبح جہاز موجود ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ساڑھے پانچ ماہ تک قزاقوں کی قید میں رہنے اور فائرنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد اب وہ دوبارہ سمندر میں جہاز پر جانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔

یاسر کے مطابق 21 اپریل کو جب صومالی قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ پر حملہ کیا تو وہ اپنے کیبن میں آرام کر رہے تھے۔ فائرنگ کی آواز سن کر ابتدا میں انہیں لگا کہ جہاز پر معمول کا کام ہو رہا ہے، تاہم جلد ہی انہیں معلوم ہوا کہ مسلح افراد کشتیوں کے ذریعے جہاز کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

قزاق جہاز پر سوار ہوئے اور عملے کو یرغمال بنا لیا۔ اس کے بعد عملے کے ارکان کو کئی ماہ تک ان کے قبضے میں رہنا پڑا۔

قید کے دوران یاسر اور ان کے ساتھیوں کو خوراک اور پینے کے پانی کی مشکلات کا بھی سامنا رہا۔ اس دوران ان کی حالت جاننے اور رہائی کے لیے ان کے اہل خانہ مسلسل کوشش کرتے رہے۔

یاسر کے مطابق ایک موقع پر قزاقوں نے انہیں موبائل فون استعمال کرنے دیا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔ اس دوران یرغمالیوں نے اپنی صورت حال کی ویڈیوز بھی بنائیں، جو بعد میں سامنے آئیں۔

قید کے آخری دنوں میں صورت حال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب جہاز کے عملے کو ایک قطار میں کھڑا کرکے ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے۔

یاسر کے مطابق اسی دوران فائرنگ ہوئی جس میں پاکستانی اور انڈونیشیائی عملے کے ارکان زخمی ہوئے جبکہ تین پاکستانی جان سے گئے۔

یاسر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میں اپنے بچوں، اپنی ماں، اپنے بھائیوں اور اپنی بیوی کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔ میں اب دوبارہ جہاز پر نہیں جانا چاہتا۔‘

’اللہ نے میری دعا سن لی‘

یاسر کی اہلیہ مہوش یاسر نے بھی انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کی اور بتایا کہ ان کے شوہر کی واپسی ان کے لیے ایک ایسی خوشی ہے جس کا وہ کئی ماہ سے انتظار کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اپنے والد کی ضرورت تھی اور طویل عرصے تک یاسر کی کوئی خبر نہ ہونے کے باعث گھر والوں کے لیے ہر دن مشکل تھا۔

مہوش نے کہا: ’میرے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ نے ان کو زندہ سلامت بھیجا۔‘

ان کے مطابق یاسر کی واپسی کی خوشی کے ساتھ تین خاندانوں کا غم بھی جڑا ہوا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہوش نے کہا: ’تین گھروں میں ماتم اور سات میں خوشیاں ہیں۔‘

واقعے میں کون جان سے گیا اور کون زخمی ہوا؟

29 ستمبر کو صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس کی جانب سے ’ایم ٹی آنر 25‘ کو قزاقوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کارروائی کی گئی۔

اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں تین پاکستانیوں سمیت پانچ افراد جان سے گئے، جبکہ چار پاکستانی زخمی ہوئے۔

جان سے جانے والے پاکستانیوں میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل تھے، جبکہ زخمیوں میں یاسر خان، محمد امین بن شمس، عقیل خان اور عثمان غنی شامل ہیں۔

یاسر کے مطابق فائرنگ کے دوران انہیں بھی گولی لگی۔ تقریباً 165 دن قید میں رہنے کے بعد ان کی واپسی نے ان کے خاندان کو اپنے پیارے سے دوبارہ ملنے کی خوشی دی، تاہم تین پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ واقعہ اپنے پیاروں کی موت کا ناقابل فراموش سانحہ بن گیا۔

’ایم ٹی آنر 25‘ کو 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز پر پاکستانیوں سمیت مختلف ممالک کے عملے کے ارکان موجود تھے۔

29 ستمبر کی کارروائی کے بعد جہاز کو قزاقوں کے قبضے سے چھڑا لیا گیا، جبکہ زخمی پاکستانیوں اور جان سے گئے افراد کی میتوں کو 4 اکتوبر کو ادیس ابابا کے راستے کراچی پہنچایا گیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ