گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی اجازت نہیں، دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشن بند کرنے پر غور، ریلوے نے ٹرینیں ردکیں

PTI10 02 2026 000127A 1200x600 1


علامتی تصویر۔ (تصویر: پی ٹی آئی/کرما بھوٹیا)

دہلی پولیس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس دوران دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے انٹرنس اور ایگزٹ گیٹ کو بند کرنے پرغور کیا گیا ہے، جبکہ ریلوے نے 10 گھنٹے کے لیے ٹرینیں رد کی ہیں۔

نئی دہلی: دہلی پولیس نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف سنیچر (10 اکتوبر) کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، دہلی پولیس کی جوائنٹ کمشنر نوپور پرساد نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک کنوینر سوربھ داس کی جانب سے 7 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی ضلع پولیس کو احتجاج کے سلسلے میں درخواست موصول ہوئی تھی۔

نوپور پرساد نے کہا کہ درخواست بہت کم وقت پہلے دی گئی تھی۔ موجودہ گائیڈ لائن کے مطابق، جنتر منتر پر کسی پروگرام کے انعقاد کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینا ضروری ہے۔

دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے انٹرنس اور ایگزٹ گیٹ بند کرنے پر غور

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کو خط لکھ کر جمعہ کی رات سے راجدھانی کے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے انٹرنس اور ایگزٹ گیٹ کرنے پر غور کرنے کو کہا تھا۔ یہ قدم 10 اکتوبر کو ہونے والے سی جے پی کے احتجاج کےمد نظر اٹھانے کو کہاگیا ہے۔

جن اسٹیشنوں پر یہ قدم اٹھانے پر غور کیا گیا، ان میں جن پتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سکریٹریٹ، راجیو چوک، نئی دہلی، منڈی ہاؤس، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، خان مارکیٹ، سپریم کورٹ، اندرپرستھ، آئی این اے، حوض خاص، لاجپت نگر، کشمیری گیٹ، کرول باغ، جامع مسجد، یونیورسٹی، سیلم پور، شاہدرہ اور روہنی ویسٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ لوک کلیان مارگ، زور باغ، جنگ پورہ، آشرم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اوکھلا وہار، سول لائنس، جی ٹی بی نگر، آدرش نگر، جہانگیر پوری، ویلکم، یمنا وہار، رتھالا اور آئی این اے اسٹیشن کے دونوں میٹرو راستوں پر واقع اسٹیشن بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر (ٹرانسپورٹ رینج) نے 8 اکتوبر کو ڈی ایم آر سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو لکھے خط میں کہا کہ ان اسٹیشنوں پر میٹرو ٹرینوں کی آمد و رفت کی تعداد بھی کم کی جا سکتی ہے۔ خط میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حساس مقامات کی جانب بھیڑ بے قابو ہو کر بڑھ سکتی ہے۔

نئی دہلی اور حضرت نظام الدین سے آنے اور جانے والی ٹرینیں رد

دریں اثنا، دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انڈین ریلوے نے احتجاج سے پہلےسنیچر کو نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والی اور وہاں سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں 10 گھنٹے کے لیے رد کر دی ہیں۔

اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’نریندر مودی نے اب ایمرجنسی کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔‘

سینٹرل فورسز کے 23 ہزار اہلکار تعینات

مجوزہ احتجاج کے مدنظر مرکزی حکومت نے دہلی پولیس کی مدد کے لیے تقریباً 23,000 سینٹرل فورسز اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ان میں خواتین کی نیم فوجی فورسز کی پانچ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

دی انڈین ایکسپریس کی ایک اور رپورٹ کے مطابق، مرکزی وزارت داخلہ نے 8 سے 12 اکتوبر کے درمیان دہلی پولیس کی مدد کے لیے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی 221 کمپنیاں دستیاب کرائی  ہیں۔ ان اہلکاروں کی مجموعی تعداد تقریباً 23,000 ہے۔

یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر کیا جانا ہے۔ اس کے مدنظر راجدھانی میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ