امریکہ: کیپٹل کے باہر سیکڑوں کا مظاہرہ، اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ

cap 111026 d


واشنگٹن (ایجنسیاں): امریکی دارالحکومت میں کیپٹل کے باہر سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ کیا۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے تین سال مکمل ہونے پر مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے اور غزہ میں نسل کشی اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے بڑے سائن بورڈ اٹھا رکھے تھے۔ کچھ سائن بورڈز میں امریکی جنگوں کی معاشی لاگت کو اجاگر کیا گیا اور فوجی اخراجات کو ملک میں بڑھتی قیمتوں اور کم اجرتوں سے جوڑا گیا۔
یہ ریلی اور مارچ فلسطینی یوتھ موومنٹ اور دیگر فلسطین نواز گروپوں نے منعقد کیا۔ منتظمین نے واشنگٹن پر اسرائیل کے لیے فوجی اور سفارتی حمایت کے خلاف نئے سرے سے دباؤ ڈالنے پر زور دیا۔ فلسطینی یوتھ موومنٹ کی نوہاد اکار نے انادولو سے گفتگو میں کہا کہ مظاہرین اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر منتخب عہدیداروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اس نسل کشی کو معمول بننے نہیں دیں گے”۔ اکار نے سرکاری اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں سے سرمایہ کاری واپس لیں۔ ان کے مطابق ان کا گروپ ورجینیا کے ریاستی ریٹائرمنٹ سسٹم میں ایسی کمپنیوں سے ۳۹۴ ملین ڈالر سے زیادہ کی پنشن سرمایہ کاری نکلوانے کی مہم چلا رہا ہے۔
نیشنل ایرانی امریکن کونسل کی ازابیلا جاویدان نے غزہ میں اسرائیلی کارروائی کو لبنان اور ایران میں فوجی اقدامات سے جوڑتے ہوئے امریکی قانون سازوں اور دفاعی ٹھیکیداروں پر خطے میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ تھلگ سانحات نہیں بلکہ ایک ہی سامراجی منصوبے کا اظہار ہیں، اور قانون سازوں کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہتھیاروں کی ترسیل، فوجی فنڈنگ اور پابندیوں کے فیصلوں کے شہریوں پر نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
مظاہرین میں شامل ایرک ڈبلیو نے، جو یہودی امریکی ہیں، کہا کہ وہ ان سیاست دانوں کے مخالف ہیں جو یہودی امریکیوں کی حفاظت کا حوالہ دے کر اسرائیل کو مسلح کرنے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کو مسلح کرنا سام دشمنی کا مقابلہ نہیں کرتا۔ ان کے سائن پر لکھا تھا "ہمارے نام پر کوئی نسل کشی نہیں”۔ مارچ کے بعد فلسطینی سیاسی رہنما مصطفیٰ برغوثی اور مصنف جہاد ابوسلیم کے ساتھ گفتگو کا پروگرام بھی تھا۔
یہ احتجاج ۳ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوا، جن کے بعد کانگریس کے ارکان کو اسرائیل کے لیے کسی بھی فوجی امداد کی منظوری پر ووٹ دینا ہوگا۔ انتخابات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب اسرائیلی اقدامات کے بارے میں امریکی عوام میں ناپسندیدگی بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ