ریاض (ایجنسیاں): سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں ۱۲ افراد ہلاک اور ۳۰۰ زخمی ہوگئے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ہلاک شدگان میں چار سعودی، دو بنگلہ دیشی اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ حملے کے بعد ہوائی اڈے پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ مئی ۲۰۱۵ء کے بعد مملکت میں سب سے مہلک حملہ ہے۔
سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے اسے "جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے یمن کے حوثیوں پر الزام عائد کیا اور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ حوثیوں نے اس حملے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم کہا کہ وہ جمعرات کو اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کے ذمہ دار تھے جن میں تین افراد ہلاک اور ایک طیارہ تباہ ہوا تھا۔ ۶ اور ۷ اکتوبر کو دو دیگر سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے الگ حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اتحاد کے مطابق سنیچر کو دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ایک مسافر ٹرمینل پر حملے سے عام مسافر اور ہوائی اڈے کا عملہ ہلاک ہوا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عینی شاہدین نے ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں ہوائی اڈے کی طرف جاتی دیکھیں اور گیٹ ۴۰۱ پر زخمیوں کو بھاگتے دیکھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور انہیں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ کویت نے انہیں گھناؤنا اور بزدلانہ قرار دیا، جبکہ مصر، فلسطین اور قطر نے بھی مذمت کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی۔ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب کا ساتھ دے سکتے ہیں۔
مغربی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ریاض ایئرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی سفارت خانے نے عملے کو ریاض، جدہ اور دمام کے ہوائی اڈے استعمال کرنے کے لیے خصوصی اجازت لینے کا کہا ہے۔ کئی خلیجی ایئر لائنز نے پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ کویت ایئرویز نے سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیا۔ یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خدشہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، اور تنازع ختم کرنے کے معاہدے کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

