واشنگٹن (ایجنسیاں): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کی جانب سے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے مقصد سے کرائی گئی جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے، لیکن اس دوران فلسطینیوں کو راحت اور تعمیر نو کا موقع ملنے کے بجائے اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اپنے زیر قبضہ علاقوں کو بھی وسیع کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے ستمبر ۲۰۲۵ء میں بورڈ آف پیس قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد غزہ کو مستحکم کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا تھا۔ نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد میں بورڈ کو غزہ کی عبوری انتظامیہ کے طور پر تسلیم کیا گیا، تاہم ایک سال گزرنے کے بعد بھی اس کے بیشتر اہداف پورے نہیں ہو سکے۔
ٹرمپ کے ۲۰ نکاتی غزہ امن منصوبے میں بورڈ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے ساتھ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی شرائط بھی شامل تھیں۔ جنگ بندی ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہوئی تھی۔ منصوبے کا مقصد ایسے اقدامات کرنا تھا جن سے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی ایک قابل اعتماد راہ ہموار ہو سکے۔
منصوبے کے تحت بورڈ کو عبوری حکومتی ادارے کے طور پر کام کرنا تھا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا انتظام سنبھال سکے۔ امریکی قیادت میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کو اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد علاقے کی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنی تھی، جبکہ غزہ کی تعمیر نو اور ترقی کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ فروری میں بورڈ کے ارکان نے واشنگٹن میں اپنے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت کی، لیکن ہر کارروائی صرف میٹنگ تک ہی محدود رہی۔

