یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی اپیل کے بعد یوکرین نے دو روز کے لیے روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روک دیے لیکن روس نے جواب میں یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ ان دو دنوں کے دوران روس نے یوکرین کی توانائی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جبکہ ملک کے 19 علاقے حملوں کی زد میں آئے۔
یوکرینی صدر نے روسی حملوں میں شہری ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خارکیف میں ایک رہائشی عمارت تباہ ہوگئی جس کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں۔ حملے میں 4 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے۔
یوکرینی صدر نے کیف میں بیلسٹک میزائل حملے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 5 میزائلوں نے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا لیکن اس حملے سے قبل یوکرین کو اپنے شراکت داروں کی جانب سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی۔
وولودیمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ روس نے رات کے حملوں میں جیٹ انجن والے ڈرونز، خودکار حملہ آور ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سمیت مختلف اقسام کے 100 سے زیادہ ہتھیار استعمال کیے۔
انھوں نے باور کرایا کہ یوکرین کشیدگی کم کرنے کے لیے باہمی اقدامات پر تیار ہے تاہم روس پر مؤثر عالمی دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ جنگ اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب حملہ آور کو یہ احساس ہو کہ وہ جنگ کو مزید طول نہیں دے سکتا۔
صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکا، یورپ اور دیگر اتحادیوں سے یوکرین کے دفاع اور شہریوں کو میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔

