صنعاء — یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے جاری ’’فجر الیمن‘‘ حملے کے حصے کے طور پر ایران حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف متعدد محاذوں پر ۱۸۷۹؍ کارروائیاں کیں۔ فوجی ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ ان کارروائیوں میں ۹۵۰؍ حوثی جنگجو ہلاک اور ۳۸۰؍ فوجی گاڑیاں تباہ یا ناکارہ بنا دی گئیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور حوثیوں نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ کارروائیوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں، کمانڈ سینٹرز، ہتھیاروں کے ڈپو اور دیگر فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں جنگی طیارے، ڈرون، توپ خانے، متعدد راکٹ لانچرز اور اسنائپر یونٹس شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اہداف میں دفاعی پوزیشنز، مورچہ بندیاں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، توپ خانے اور راکٹ لانچر سائٹس، نگرانی کی چوکیاں، فوجی اجتماعات، ہتھیاروں کے ڈپو اور سپلائی اثاثے شامل تھے۔
آپریشن فجر الیمن کا آغاز ۵؍ اکتوبر کو یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ریاستی اداروں کو بحال کرنا اور دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے کنٹرول کو ختم کرنا ہے۔
یہ حملہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے پر مرکوز رہا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ سرکاری فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے اور موخا کے ارد گرد کے علاقوں کو واپس لے لیا ہے، جبکہ تعز اور دیگر محاذوں کے ارد گرد لڑائی جاری ہے۔
ذہن نشین رہے کہ حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے ۲۰۱۴ء میں صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس سے ایک جنگ شروع ہوئی جس میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد شامل ہو گیا۔ یہ تنازع تب سے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر چکا ہے اور دنیا کے سب سے سنگین انسانی بحرانوں میں سے ایک پیدا کر چکا ہے۔

