جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد امریکی یونیورسٹی میں ’اسٹوڈینٹس پارٹیز‘ پر پابندی

untitled 81791922024 0


امریکا کی معروف کارنیل یونیورسٹی نے طالبات سے جنسی زیادتی کے الزامات اور انتظامیہ پر بڑھتی تنقید کے بعد تعلیمی سال کے اختتام تک طلبا جماعتوں کی رہائشی عمارتوں میں تمام تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ فیصلہ 2024 میں یونیورسٹی کے ایک طلبہ کلب کی تقریب میں مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے سے متعلق مقدمے کے بعد کیا گیا۔

متاثرہ خاتون، جن کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے جین ڈو کے نام سے کی گئی ہے، نے گزشتہ ماہ عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ نشہ آور اشیا دے کر متعدد افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

یونیورسٹی کے صدر مائیکل کوٹلیکوف نے اپنے بیان میں واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی حفاظت کے حوالے سے خدشات دور کرنا اور ادارے کی کوتاہیوں کا اعتراف ضروری ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ تقریبات پر عائد نئی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے طلبا کی رجسٹریشن معطل کی جا سکتی ہے۔

یونیورسٹی نے جنسی زیادتی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے عملہ بڑھانے اور شکایات درج کرانے کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

نیویارک اسٹیٹ پولیس کے خصوصی تربیت یافتہ اہلکار بھی ایسے واقعات کی تحقیقات میں معاونت کریں گے۔ مقدمے میں یونیورسٹی اور مقامی استغاثہ کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔

ٹامپکنز کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی میتھیو وان ہاؤٹن کے مطابق ان کے دفتر کو 2024 میں یونیورسٹی کی جانب سے صرف چھ صفحات پر مشتمل متاثرہ خاتون کا بیان اور سماجی رابطے کی ایپ پر ہونے والی بعض گفتگو فراہم کی گئی تھی۔

ریاستی حکام نے مقدمہ نہ چلانے اور گواہوں سے خود تفتیش نہ کرنے پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے ریاستی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کو معاملے کی تحقیقات سونپ دی ہیں۔

متاثرہ خاتون کے وکیل کے مطابق ان کی مؤکلہ کو مبینہ واقعے کے بعد دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ