واشنگٹن: سی این این سے منسوب ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں طاقتور غیر جوہری بم جی بی یو-43/بی، المعروف ’’مدر آف آل بم‘‘، کے استعمال کا آپشن بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں منصوبہ بندی سے واقف امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کی صورت میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، حملوں یا مذکورہ بم کے استعمال کا حتمی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق، زیرِ غور اہداف میں پک ایکس ماؤنٹین کی ایک مشتبہ زیرِ زمین تنصیب بھی شامل ہے۔ امریکی حکام نے گہرائی میں واقع اور مضبوط حفاظتی تہوں سے ڈھکے اہداف کے خلاف اس بم کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ، یا موآب، وسیع رقبے پر شدید دھماکا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، نہ کہ زمین میں گہرائی تک داخل ہو کر زیرِ زمین تنصیبات تباہ کرنے کے لیے۔ بعض ذرائع نے اس کے ممکنہ استعمال کو فوجی کارروائی کے ساتھ نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے ایک آپشن کے طور پر بیان کیا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبادی یا شہری تنصیبات کے قریب اس ہتھیار کا استعمال بڑے پیمانے پر تباہی اور شہری جانی نقصان کے سنگین خدشات پیدا کر سکتا ہے۔

