وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان گرین اسٹارٹ اپس، پائیدار جدت اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
جرمنی کے یومِ اتحاد کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے جدید تحقیقی اور اختراعی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول دوست کاروباری منصوبوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماحول دوست اور پائیدار کاروبار کے شعبے میں نئی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نوجوان محققین اور اختراع کار اپنی صلاحیتوں کو عملی کاروبار میں تبدیل کر سکیں اور صرف مالی معاونت پر انحصار نہ کریں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیلاب سمیت مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے جدید اور پائیدار حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ پاکستان اور جرمنی کے مشترکہ اقدامات نہ صرف مقامی مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ ان منصوبوں کو عالمی سطح پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
مصدق ملک نے جرمنی کو پاکستان کا قریبی شراکت دار اور سب سے بڑا تجارتی شریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ معیارات پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے جرمنی کے اتحاد کو عوامی عزم، یکجہتی اور باہمی احترام کی اہم مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تاریخی، علمی اور انسانی روابط دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے علامہ محمد اقبال کے شہر ہائیڈل برگ سے تعلق اور جرمن شاعر گوئٹے سے ان کی علمی وابستگی کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے پاکستان میں جذام کے مریضوں کی خدمت کے لیے زندگی وقف کرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی انسانی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کا موقع دونوں ممالک کے لیے دوستی، انسانی ہمدردی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کا اہم موقع ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تحقیق، جدت اور گرین انٹرپرینیورشپ میں قریبی تعاون سے دوطرفہ تعلقات کو نئی تقویت ملے گی اور دونوں ممالک میں پائیدار ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔


