پشاور کی دیر کالونی میں ایک خستہ حال تعلیمی عمارت کا منہدم ہونا اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ جب ریاستی نگرانی کاغذی کارروائی، سیاسی مصلحت اور ادارہ جاتی غفلت کی نذر ہوجائے تو اس کی قیمت اکثر وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ بہتر مستقبل کی امید لے کر گھر سے نکلتے ہیں۔ چھ سے چودہ برس کی عمر کے بچے کتابیں اٹھائے علم کی دہلیز پر پہنچے تھے، مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ جس چھت کے نیچے وہ اپنے خوابوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں، وہی چھت ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
تینتیس معصوم جانوں کا ضیاع، دو معلمات کی شہادت اور درجنوں بچوں کا زخمی ہونا ایسا قومی المیہ ہے جسے محض تعزیتی بیانات، مالی امداد اور چند سرکاری اجلاسوں کے ذریعے تاریخ کے کسی گوشے میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ اس سانحے کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ان تمام انتظامی، قانونی اور سیاسی عوامل کا پردہ چاک کیا جائے جنہوں نے ایک تعلیمی ادارے کو بچوں کے لیے محفوظ مقام بنانے کے بجائے موت کے جال میں تبدیل ہونے دیا۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں نجی اسکول کی عمارت کی چھت کمزور ہوئی اور جمعرات کی صبح منہدم ہوکر نچلی منزل پر جاگری۔ پچاس سے زائد بچوں کے ملبے تلے دبنے، سو سے زیادہ افراد کے محصور ہونے اور امدادی کارروائیوں کے دوران چیخ و پکار کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔ فوج، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے بچوں کو نکالنے کے لیے کوششیں کیں، لیکن جو زندگیاں ہمیشہ کے لیے بجھ گئیں، انھیں کسی امدادی کارروائی سے واپس نہیں لایا جاسکتا۔
ایک ہی خاندان کے پانچ بچوں، جن میں تین بھائی اور ان کے دو کزن شامل تھے، کی شہادت نے غم کی شدت کو مزید بڑھا دیا۔ ان میں دو معذور بھائیوں کی موجودگی اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ تعلیمی ادارے میں خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی حفاظت اور ہنگامی حالات میں ان کے انخلا کے لیے کیا انتظامات موجود تھے۔
اس حادثے کو محض غیر معمولی بارشوں کا نتیجہ قرار دینا اصل مسئلے سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہوگا۔ بارش قدرتی عمل ہے، لیکن عمارت کی تعمیر، اس کی مضبوطی، استعمال کی اجازت، حفاظتی معائنے اور طلبہ کی جانوں کے تحفظ کے انتظامات انسانی ذمے داریوں میں شامل ہیں، اگر کسی عمارت کی چھت بارش کے چند دنوں میں اس حد تک کمزور ہوجائے کہ وہ بچوں کا بوجھ برداشت نہ کرسکے تو یہ جانچنا ناگزیر ہے کہ تعمیر میں کون سا مواد استعمال ہوا، عمارت کا نقشہ منظور شدہ تھا یا نہیں، اس کی بنیادیں اور ستون مطلوبہ معیار پر پورے اترتے تھے یا نہیں، اور کیا کبھی کسی مجاز ادارے نے اس کی حالت کا معائنہ کیا تھا؟ قدرتی آفت اور انتظامی غفلت کے درمیان فرق کا تعین جذبات سے نہیں، شواہد سے ہوتا ہے۔ یہی فرق اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ یہ سانحہ ناقابلِ پیش گوئی حادثہ تھا یا ان خطرات کا نتیجہ جنھیں بروقت کارروائی سے روکا جاسکتا تھا۔
ان اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کسی بھی صورت ذمے داری سے فرار کا جواز نہیں بن سکتی، اگر محکمہ تعلیم یہ کہے کہ عمارت کی مضبوطی اس کا معاملہ نہیں، تعمیراتی ادارہ رجسٹریشن سے لاعلمی ظاہر کرے اور مقامی انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ اسے شکایت موصول نہیں ہوئی تو پھر سوال یہ ہوگا کہ شہریوں کی جانوں کی حفاظت کس ادارے کے سپرد ہے؟
ریاستی نظام میں محکمے ایک دوسرے سے الگ ضرور ہوتے ہیں، لیکن عوامی سلامتی کے مقصد سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ جس مقام پر یہ ربط ختم ہوجائے، وہاں قانون کی موجودگی کے باوجود بے ضابطگیوں کو بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں سے متعلق خیبرپختونخوا کے قانون میں 2017ء کے دوران مبینہ ترمیم کا معاملہ بھی اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق نو جون 2017ء کو جاری ہونے والے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون کی دفعہ 22 کی ذیلی شق 4 کے تحت خلاف ورزی کرنے والے ادارے کو بند یا سربمہر کرنے کی گنجائش موجود تھی، جبکہ بعد میں ہونے والی مبینہ ترمیم کے ذریعے اس اختیار کی جگہ جرمانے کی سزا متعارف کرائی گئی۔
یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ ترمیم سے بعض بااثر سیاسی شخصیات کے نجی تعلیمی کاروبار کو فائدہ پہنچا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور اصل قانونی دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے، لیکن اگر قانون میں واقعی اس نوعیت کی تبدیلی کی گئی اور اس کے پیچھے ذاتی یا سیاسی مفادات کارفرما تھے تو یہ محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ قانون سازی کے اختیار کے ممکنہ ناجائز استعمال کا معاملہ ہوگا۔
تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کے دور میں نجی تعلیمی اداروں سے متعلق قانون میں مبینہ تبدیلی اور سیاسی شخصیات کے مفادات کے الزامات کی تحقیقات بھی اسی لیے ضروری ہیں۔ اس معاملے میں کسی جماعت یا فرد کو پہلے ہی مجرم قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا، لیکن سیاسی وابستگی کو کسی کے لیے قانونی تحفظ کی ڈھال بننے دینا بھی ناقابلِ قبول ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ترمیم کس نے تجویز کی، کس نے منظور کی، اس کے حق میں کیا وجوہ پیش کی گئیں، متعلقہ اداروں نے اس پر کیا قانونی رائے دی اور اس تبدیلی سے کن تعلیمی اداروں کو عملی فائدہ پہنچا؟ ان سوالات کے جوابات پارلیمانی ریکارڈ، سرکاری نوٹیفکیشن، اتھارٹی کی فائلوں اور دیگر مستند دستاویزات سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر مفادات کے ٹکراؤ یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملیں تو ذمے داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
اسی طرح محکمہ تعلیم میں تقرریوں، رجسٹریشن، اجازت ناموں اور معائنے کے نظام میں سیاسی مداخلت یا بدعنوانی کے الزامات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر سرکاری اہلکاروں نے کسی غیر رجسٹرڈ ادارے کو کام جاری رکھنے دیا، معائنے کی ذمے داری پوری نہیں کی یا خلاف ورزیوں کے باوجود کارروائی سے گریز کیا تو ان کے عہدے، سیاسی وابستگی یا اثرورسوخ سے قطع نظر جواب طلبی ہونی چاہیے۔
کسی بھی افسر کے خلاف کارروائی محض الزام کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ثبوت اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جائے۔ یہی اصول تحقیقات کو انتقام سے الگ کرکے احتساب کی معتبر صورت عطا کرسکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور عبوری انتظامی بندوبست کے موجودہ حالات میں یہ سانحہ صوبائی انتظامیہ کے لیے ایک اہم آزمائش ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے ذمے داروں کے تعین، اسکول کا دورہ اور امدادی رقوم کے اعلان کے ساتھ تحقیقات کی ہدایات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب ابتدائی اعلانات قابلِ تصدیق نتائج میں تبدیل ہوں گے۔
اس مقصد کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی کمیٹی درکار ہے جس میں تعمیراتی سلامتی کے آزاد ماہرین، قانونی ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے اہل افراد شامل ہوں، جبکہ اس کی کارروائی سیاسی اثرورسوخ سے محفوظ رکھی جائے۔ عمارت کا منظور شدہ نقشہ، تعمیراتی ریکارڈ، رجسٹریشن کی تفصیلات، معائنے کی رپورٹس، بارش سے پہلے اور بعد کی صورتِ حال، متعلقہ افسران کی ذمے داریاں اور قانون میں کی گئی تبدیلیوں کا ریکارڈ تحقیق کا حصہ بنایا جائے۔
یہ بھی دیکھا جائے کہ کسی اہلکار یا افسر کو خطرے کی اطلاع تھی یا نہیں، اور اگر تھی تو اس نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی۔ تحقیقاتی نتائج عوام کے سامنے لانا شفافیت کا تقاضا ہے، البتہ متاثرہ خاندانوں کی نجی معلومات اور قانونی کارروائی کی ضروری رازداری کا احترام بھی برقرار رہنا چاہیے۔
قومی زندگی میں بعض حادثات محض نقصان نہیں ہوتے، وہ نظام کی پوشیدہ کمزوریوں کو بھی بے نقاب کردیتے ہیں۔ پشاور کا یہ سانحہ بھی ایک ایسا ہی لمحہ ہے۔ اب فیصلہ عبوری انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کرنا ہے کہ وہ اسے چند گرفتاریاں، امدادی اعلانات اور فائلوں کی تکمیل تک محدود رکھتے ہیں یا اسے صوبے میں شفاف طرزِ حکمرانی، مؤثر احتساب اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی نئی بنیاد بناتے ہیں۔
شہید بچوں کی خاموش قبریں اس معاشرے سے ایک ہی سوال پوچھتی رہیں گی۔ کیا ان کی جانوں کے بعد بھی غفلت کو تحفظ ملے گا، یا قانون پہلی مرتبہ اپنے پورے وزن کے ساتھ حرکت میں آئے گا؟ اس سوال کا جواب بیانات میں نہیں، تحقیقات کے نتائج اور عملی اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔ یہی ان معصوموں کے نام پر قوم کا قرض ہے اور یہی ریاستی ذمے داری کا اصل امتحان۔
Source link

