ترسیلات زر میں اضافہ

2727427 muhammadibrahimkhalil 1729272984



بیرون ملک جانے والے اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ چند سال کی جدائی کے بعد وہ اچھے خاصے پیسے کما کر اپنے ملک لوٹ آئیں گے مگر زندگی ہمیشہ منصوبے کے مطابق نہیں چلتی۔ پردیس میں ملازمت حاصل کرنے کے بعد کرایہ، خوراک، آمد و رفت، رہائشی اجازت نامے اور دیگر بہت سے اخراجات اس کے گلے کا ہار بنتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان سے بھی مسلسل تقاضا ہوتا رہتا ہے کہ بجلی کا بل 30 ہزار 40 ہزار کا آ گیا ہے اس کے لیے رقم بھیج دو۔ وہ رقم بھیجتا رہتا ہے ،ادھر کمائی بھی کرتا رہتا ہے ،اپنے اخراجات پورے کرتا ہے۔ وہاں کے ٹیکس ادا کرتا رہتا ہے، ایسی صورت میں اس کی بچت بالکل نہیں ہوتی یا برائے نام ہوتی ہے۔

 اب چند سال بعد بچی کچھی رقم سے وہ ٹکٹ خریدتا ہے اور جب اپنے ملک آتا ہے تو یہاں کے حالات پہلے سے بھی خراب ہو چکے ہوتے ہیں۔ بے انتہا مہنگائی، لوڈ شیڈنگ کا عذاب، حادثات، گلیوں اور سڑکوں پر دن دہاڑے لوٹ مار اور بہت سے مسئلے مسائل دیکھ کر وہ واپس جانے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔

ان نوجوانوں کے والدین نے کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اس کا تعلیم یافتہ بیٹا جسے خاندان کی ذمے داریاں نبھانی ہیں وہ اس قدر مجبور ہوگا کہ اسے بیرون ملک جانا پڑ جائے۔ جب وہ بیرون ملک چلا جاتا ہے تو ابتدائی مہینوں تک گھر میں ایک عجیب سی رونق ہوتی ہے۔ اس کے قصے سنائے جاتے ہیں، اس کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، اس کی واپسی کی تاریخیں طے کی جاتی ہیں اور سب سے بڑھ کر اب اس کے رشتے کی بات طے کی جاتی ہے لیکن سب کچھ ماں باپ کی خواہشوں کے مطابق نہیں ہوتا۔

 اب بیرون ملک گئے ہوئے بیٹے کے مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسے چھٹی نہیں ملتی۔ پھر جہازوں کے کرائے اتنے بڑھ گئے ہیں اور دیگر ملکوں پر بھی مہنگائی کے اثرات بڑھنے لگے ہیں، نوجوان کی مجبوریاں بڑھ جاتی ہیں، جو والدین اور خاندان سے دوریاں لے کر آتا ہے۔ اس طرح اب یہ مالی مسائل سے زیادہ سماجی مسئلہ بنتا چلا جا رہا ہے۔ اب بات یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ بھیجی ہوئی رقم سے دوائیں تو خرید لی جاتی ہیں، پیسوں سے گھر کی مرمت ہو سکتی ہے، یہ نوجوان اپنے والدین سے رابطے میں رہتے ہیں بعض افراد بیرون ملک رہ کر اپنے مخلص دوستوں کے ذریعے اپنے بوڑھے والدین کی صحت و تندرستی کے لیے انتظامات بھی کراتے ہیں، سماجی کارکن اسد اکبر کا کہنا ہے کہ ان کے کئی دوست جوکہ بیرون ملک اعلیٰ ملازمتوں پر کام کر رہے ہیں ان دوستوں کے فون کالز موصول ہوتے ہیں کہ میرے والدین کو کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک کرایا جائے جس کے لیے وہ ان کی خواہش کے مطابق انتظام کرتے ہیں۔ اس طرح والدین کی خدمت کے لیے مخلص دوستوں کی مدد لی جاتی ہے۔

 ان باتوں سے ہٹ کر اگر ہم معاشی حقیقت کا جائزہ لیں تو پاکستان کے لیے یہ ترسیلات زر انتہائی اہم ترین ہیں کیونکہ پاکستان کو بیرون ممالک سے مشینری، صنعتی خام مال، ادویات اور دیگر بہت سی ایسی اشیا خریدنا ضروری ہوتی ہیں جو ملک میں تیار نہ ہو رہی ہوں، لہٰذا بیرونی ادائیگی کے کام آتی ہیں لیکن یہ ملک کے تمام معاشی مسائل کا حل نہیں ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی رقم سے بہت سے خاندانوں کے خوراک، رہائش، ادویات اور دیگر اخراجات کا کام لیا جاتا ہے ۔

ان پیسوں سے بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے لیکن ایک طرف بڑھتے ہوئے بجلی بل اور گیس کا بل اس کے علاوہ پٹرولیم کی قیمتوں میں آئے روز اضافے اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی ان خاندانوں کو متاثر کیا ہے جوکہ ترسیلات زر پر ہی گزارا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کا والد کے بغیر رہنا یہ وہ مرحلہ جہاں والد کی تربیت اور رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے بغیر بچوں کی عمر جیسے جیسے بڑھتی چلی جاتی ہے ان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں اور پھر وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹے سے دور ہیں وہ بھی انتہائی مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔ بچوں کو اور ماں اور بیوی اور بوڑھے والد کو ہر دم انتظار رہتا ہے کہ کب فون آئے اور دیار غیر گیا ہوا شخص اپنے وطن واپسی کا اعلان کرے۔

 اب ہمیں ایسے پاکستان کی تعمیر کرنا ہوگی جہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے نوکریاں ملک میں ہی دستیاب ہوں، کیونکہ اب پاکستان کو ڈاکٹر، انجینئرز، اکاؤنٹینٹ، آئی ٹی ایکسپرٹس کی ضرورت ہے جہاں نوجوان تعلیم حاصل کرکے ملک میں اچھی نوکری کا حامل بن کر اچھی تنخواہ حاصل کرے اور بیرون ملک جانے کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے ہی ملک کی خدمت کرے۔ اپنے ہی ملک میں اسے مواقع حاصل ہوں تاکہ اپنے والدین اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مل کر وہ کھانا کھائے، چائے پیئے اور اسے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کے بھرپور مواقع حاصل ہوں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ