ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد روک دیا

399217 301515515


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت روسی معیشت کو نشانہ بنانے والے پابندیوں کے ایک نئے اور وسیع پیکج پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کو بتایا کہ یہ التوا قومی مفاد میں ہے۔

ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ہی اس قانون پر ذاتی طور پر دستخط کیے تھے جبکہ ان کا نیا قدم قانون پر عمل درآمد کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن سے محض دو دن قبل سامنے آیا ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹ ارکان نے امریکی صدر کے اقدام کی مذمت کی ہے۔

جنوبی کیرولائنا کے سینیٹر لنزی گریم کے نام سے منسوب، اس قانون کا مقصد یوکرین کے خلاف جنگ کو ہوا دینے والے مالی وسائل کی ترسیل پر زیادہ تیزی سے قابو پانا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ غیر متوقع فیصلہ ان کے اس حیران کن بیان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ توانائی کی عالمی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے، باوجود اس کے کہ اس سے روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یکم اکتوبر کو شائع ہونے والے اے پی – این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی عوام ایران جنگ سے نمٹنے کے صدارتی طریقہ کار کو ناپسند کرتے ہیں اور بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار انہیں ٹھہراتے ہیں۔

 ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح تقریباً تاریخی طور پر کم ترین سطح پر آ گئی ہے اور تین نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی رپبلکنز کی کوششوں کے ساتھ ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ 

پابندیاں لنزی گریم کی میراث

صدر کے قریبی اتحادی اور دوست لنزی گریم یوکرین سے واپس ہی آئے تھے کہ جولائی میں ان کا غیر متوقع طور پر انتقال ہو گیا۔ انہوں نے روس پر یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے ایک طریقے کے طور پر اس کے خلاف سخت امریکی پابندیوں کی وکالت کی تھی۔

ان کی موت کے بعد کانگریس میں ان کے ساتھیوں نے دونوں جماعتوں کی حمایت کے ساتھ اس پر ردعمل دیا اور ٹرمپ نے اس قانون پر دستخط کر دیے، تاہم پھر جمعے کو اپنا ارادہ بدل لیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پیکج کا مقصد روسی صدر ولادی میر پوتن کو ان وسائل سے محروم کرنا تھا جن کی ماسکو کو چار سال سے زائد عرصہ قبل اپنے پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کے بعد یوکرین میں اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہے۔

کنیکٹیکٹ کے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کی جانب سے بھی تیار کیے گئے اس بل کا مقصد روسی حکام، بینکوں اور ٹینکروں کے اس خفیہ بیڑے پر پابندیاں لگانا تھا جو روسی توانائی کی ترسیل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس میں ٹرمپ کو روسی تیل یا قدرتی گیس کے سرفہرست پانچ درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ان ممالک کو استثنیٰ دیا گیا تھا، جو روس کی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور ان درآمدات کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر چکے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر پابندیوں پر عمل روکنے کا حکم نامہ جاری ہونے کے بعد جنگ زدہ یوکرین کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات ایک نئی نچلی سطح پر آ گئے ہیں۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے یورپی یونین کے رہنماؤں پر زور دے کر کہا کہ وہ اگلے سال تقریباً 80 ارب ڈالر مزید فراہم کر کے کیئف کی جنگ کی مالی اعانت جاری رکھیں اور اس بات پر تاکید کی کہ ٹرمپ کی حمایت میں کمی کے باوجود وہ اپنے ملک کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔

روس پر عائد پابندیوں کے حوالے سے ٹرمپ کا اپنا فیصلہ واپس لینے کا اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب انہوں نے عالمی منڈیوں میں بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کے بدلے روس پر پابندیوں میں نرمی کے لیے پوتن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔

ایران میں امریکی صدر کی جنگ نے تیل کی شدید قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو جنم دیا ہے، جس سے اگلے ماہ ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ان کی رپبلکن پارٹی کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انتخابات سے قبل ٹرمپ کی ملکی سطح پر موجود مشکلات کے لیے انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، تو زیلنسکی محض مسکرا دیے۔

ایک طویل توقف کے بعد انہوں نے برسلز میں صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ میرا جواب ہے۔’

امریکہ اور یوکرین کے درمیان کشیدہ تعلقات کی ایک اور علامت کے طور پر، زیلنسکی کی جانب سے اپنی افواج کو روسی ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے حکم کے بعد ٹرمپ نے کیئف کے اقدامات کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔

یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد زیلنسکی نے کہا: ’میں صرف اور صرف یوکرین اور یوکرینی عوام کے مفادات کا دفاع کرتا ہوں۔‘

ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تعلقات کی اس خرابی نے ان خدشات کو ہوا دی ہے کہ امریکی رہنما ماسکو کی طرف داری کر رہے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ