مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیدی لیوائن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ردعمل پر گہرا ناراضگی اور توہین محسوس ہونے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج پر فلسطینیوں کے بجائے آبادکاروں کو زیادہ تحفظ دینے کا الزام عائد کیا۔
ابو فلاح گاؤں میں زیتون کی کٹائی کی کوریج کے دوران جمعرات کو آبادکاروں نے لیوائن پر حملہ کیا، جس میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کے کئی مہرے ٹوٹ گئے۔ اسپتال کے بستر سے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے لیوائن نے کہا کہ نیتن یاہو کا حملے کو ’’مبینہ‘‘ قرار دینا حیران کن اور توہین آمیز ہے، حالانکہ وزیراعظم کے سامنے تمام ثبوت موجود تھے۔
نیتن یاہو نے آبادکاروں کے تشدد کی عمومی مذمت تو کی، لیکن لیوائن پر حملے کے حقائق کو ’’غیر واضح اور زیرِ تفتیش‘‘ قرار دیا، اس کے باوجود کہ حملے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔
لیوائن نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی فون کال اور سابق سکیوریٹی و انٹیلی جنس عہدیداروں کے دستخط شدہ خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حملے پر شدید شرمندگی کا اظہار کیا۔ خط پر سابق وزیردفاع موشے یعلون، سابق موساد سربراہ تامیر پاردو اور سابق شن بیت سربراہ امی ایالون سمیت ایک درجن سے زائد سابق عہدیداروں نے دستخط کیے۔
خط میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں ’’یہودی دہشت گرد‘‘ بے گناہ فلسطینیوں کو اذیت پہنچا رہے ہیں اور ان کی سفاکیت اسرائیل اور یہودی قوم کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔ خط میں حکومتی سطح کی حوصلہ افزائی کو صورتحال برقرار رکھنے کا سبب قرار دیتے ہوئے پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے لیوائن پر حملے کو ’’نقاب پوش بزدلوں کی جانب سے دہشت گردی کی قابلِ نفرت کارروائی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ حملہ آوروں کو کئی سال قید کی سزا ملنی چاہیے۔
حقوقی تنظیموں کے مطابق زیتون کی کٹائی کے موسم کے آغاز کے بعد سے سیکڑوں فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملے ہو چکے ہیں، جبکہ زیتون کے درخت بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ لیوائن نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ عملی اقدام کریں اور کہا کہ حملہ آوروں نے ان کی ہڈیاں توڑ دیں، لیکن ان کا حوصلہ نہیں توڑ سکا۔

