دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں’، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج

abbas 1910 d


تہران (نامہ نگار) — ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں تہران نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت انتباہ دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر امریکہ کو نئی جنگ میں دھکیلنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں اسرائیل کو تباہ کن نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کی رات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ قید سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن کو دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
عراقچی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نتائج کی پروا کیے بغیر اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’’پچھلی مرتبہ جب آپ نے کام تمام کرنے کی کوشش کی تھی تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا تھا۔ کیا آپ دوبارہ اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں؟ تو تشریف لائیں، لیکن محتاط رہیے، ہمارے بھی کچھ کام ابھی ادھورے ہیں۔‘‘
عراقچی کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل نیتن یاہو کے ساتھ اپنی شراکت داری کی تعریف کی اور ایران کے خلاف دونوں ممالک کی مشترکہ کارروائیوں کا ذکر کیا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کے علاوہ کسی دوسرے رہنما کو منتخب کیا تو ممکن ہے کہ امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’’اگر اسرائیل کے پاس غلط لیڈر ہوا، یعنی بی بی کے علاوہ کوئی اور، تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، اور میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘
’توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں اسرائیل کو جھلی ہوئی زمین بنا دیں گے‘: پاسدارانِ انقلاب
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیل کو تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے حوالے سے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا انگلش نے بیان شائع کیا، جس میں کہا گیا: ’’ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں، اگرچہ ہمارے نوجوان سائنسدان اسے فوری طور پر دوبارہ بحال کر دیں گے، مقبوضہ علاقے ہمیشہ کے لیے جھلی ہوئی زمین بن جائیں گے اور وہاں کے غاصبوں کو جزیرہ نما سینائی منتقل ہونا پڑے گا۔ دنیا دیکھے گی کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘
بیان میں اسرائیل کے کسی مخصوص ہدف کی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی جوابی کارروائی کے لیے کوئی وقت مقرر کیا گیا۔ یہ ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے خلاف انتباہ تھا، نہ کہ کسی حملے کی تصدیق۔
اس سے قبل خلیجی ممالک میں تیل اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں قطر کا راس لفان مائع قدرتی گیس کمپلیکس اور سعودی عرب کے پائپ لائن نظام سے متعلق تنصیبات شامل ہیں۔ اس تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کی 13 اکتوبر کی رپورٹ میں آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہاز رانی کو لاحق بڑھتے خطرات کا ذکر کیا گیا تھا، جن میں جہازوں پر حملے اور ایران کی جانب سے سمندری آمد و رفت محدود کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ حسین محبی کا یہ بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سمیت دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی شائع کیا۔ واضح رہے کہ جزیرہ نما سینائی مصر کا حصہ ہے۔

متعلقہ پوسٹ