دھرنوں اور احتجاج سے معیشت کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرے: وزیراعظم

IMG 20261006 WA2273


اسلام آباد، رپورٹ محمد سلیم سے ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دھرنوں اور احتجاج کی سیاست سے معیشت اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور لانگ مارچ ختم کرے۔

IMG 20261006 WA2272
دھرنوں اور احتجاج سے معیشت کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرے: وزیراعظم 3


منگل کو کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے دو روز تک سپیکر چیمبر میں پی ٹی آئی سے سنجیدہ مذاکرات کیے، تاہم دوسری طرف سے طے شدہ مسودہ بار بار تبدیل کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد بات چیت کو کامیاب نہ ہونے دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور اسے نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اڑھائی سال کی محنت سے معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی ہے۔ ستمبر میں گزشتہ سال ستمبر اور پورے سال کے مقابلے میں برآمدات بڑھیں، آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق احتجاج اور دھرنوں سے برآمدات اور صنعتی پیداوار متاثر ہوگی۔
کشمیر چوک انڈر پاس 1 ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ماہ میں مکمل ہوگا۔ تین رویہ انڈر پاس سے فیض آباد، بہارہ کہو، مری اور آزاد کشمیر کی ٹریفک رواں رہے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر داخلہ نے ایک ماہ میں تکمیل کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔ انڈر پاس اور ایکسپریس وے کی سروس لینز مکمل ہونے سے جڑواں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ 16 سے 18 منٹ رہ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف نائن پارک کو بین الاقوامی معیار کے تفریحی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اسلام آباد میں ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک بنانے کی منصوبہ بندی ہے، جبکہ 31 دسمبر تک شہر کو "پلاسٹک فری” بنانے اور کیش لیس کرنے کے منصوبوں کی نگرانی وزیر مملکت طلال چوہدری کر رہے ہیں۔
تقریب میں وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر مملکت طلال چوہدری بھی موجود تھے۔

متعلقہ پوسٹ