سعودی عرب کے پاکستان میں تعینات نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے پیر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی جس میں دونوں ممالک نے کا دفاعی تعاون اور سٹریٹجک رابطے مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں شخصیات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور سٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی سفیر کو ان کی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی مدتِ سفارت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
بیان کے مطابق یہ تعلقات مشترکہ مذہبی عقیدے، باہمی اعتماد اور سٹریٹجک شراکت داری پر استوار ہیں۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بات انڈپینڈنٹ عربیہ کو دیے ایک انٹرویو میں کہی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب کی خودمختاری، اس کی علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘
انہوں نے کہا ’جب ہم یہ کہتے ہیں تو ہمارا مطلب یہ ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر ضروری معاونت پہلے ہی فراہم کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘
انہوں نے اشارہ کیا کہ آپریشنل رازداری کے تقاضوں کے باعث تفصیلات میں جانا ممکن نہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔
تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کو موصول ہونے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بارے میں مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

