لاہور:
اپنے 2 بچوں کو قتل کرنے والی ماں کی سزا کے خلاف اپیل پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس امجد رفیق نے عمر قید کی سزا پانے والی خاتون کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی، جہاں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑ، اسسٹنٹ پراسیکیوٹر رانا محمد آصف اقبال اور مجرمہ خاتون کی جانب سے وکیل رائے ضمیر الحسن ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے حقائق کے برعکس خاتون کو سزا سنائی ہے کیونکہ موقع پر کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں تھا، اس لیے عدالت مجرمہ کے خلاف ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ماں باپ کی ناراضگی کی وجہ سے خاتون نے اپنے 2 بچوں کو قتل کیا اور خود بھی خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ مجرمہ کو سزا دفعہ 302 بی کے تحت ہوئی ہے اور اسے 302 سی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اسسٹنٹ پراسیکیوٹر رانا آصف اقبال نے مؤقف پیش کیا کہ مجرمہ اور مقتول بچوں کو ایک ہی آلے سے قتل کیا گیا تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیس میں اندازے لگائے گئے ہیں، کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں ہے۔ بعد ازاں عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

