پشاور اسکول سانحے کی رپورٹ میں عمارت اور تعمیر سے متعلق چشم کشا انکشافات

peshawar school 221792056619 0



پشاور:

اسکول کی چھت گرنے کے نتیجے میں درجنوں بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی رپورٹ میں عمارت اور تعمیر سے متعلق چشم کشا انکشافات سامنے آئی ہیں۔

کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ ایسٹرن زون نے پشاور کی دیر کالونی میں 15 اکتوبر کو نجی اسکول کی چھت گرنے سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کر کے خیبر پختونخوا حکومت اور گورنر کو ارسال کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حادثے میں نجی اسکول کے ایک کلاس روم کا پچھلا حصہ گرا تھا۔ اس عمارت کا نقشہ کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہ عمارت 2011 میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن فور کے دائرہ اختیار میں بنی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نجی اسکول کی یہ عمارت بنیادی طور پر اسکول کے لیے بنی ہی نہیں تھی بلکہ یہ اصل میں گراؤنڈ اور فرسٹ فلور پر مشتمل ایک رہائشی عمارت تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گراؤنڈ فلور کی دیواریں سیمنٹ کی اینٹوں سے اور چھت لوہے کے گارڈر پر ٹائلوں سے بنی تھی، جبکہ فرسٹ فلور کی دیواروں پر پلستر نہیں تھا اور اس کی چھت لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر بنائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق فرسٹ فلور کی یہ چھت عارضی اور کچی تھی جو اسکول کے لیے بالکل موزوں نہیں تھی۔ یہی کچی چھت بچوں اور فرنیچر کا وزن برداشت نہ کر سکی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق عمارت باہر سے خطرناک نہیں لگ رہی تھی، اسی لیے پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے اس کی رپورٹ نہیں کی۔ اسکولوں کی ریگولیشن، نگرانی اور مانیٹرنگ کی تمام تر ذمہ داری پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ