فرانس میں فسادات کا خدشہ، وزیراعظم کا ہفتے کو پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے کا اعلان

france protes1792559966 0


پیرس: فرانس کے وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے ملک میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مظاہروں کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد آئندہ ہفتے کے اختتام پر بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ ہفتے کے تشدد سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی انتظامات ناکافی رہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم نے منگل کو پارلیمان میں ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے ہفتے کے روز مظاہروں کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے فسادات کے لیے ’’بغاوت پر مبنی منصوبہ‘‘ تیار کیا تھا۔

فرانس میں ہفتے کے روز مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران کئی مقامات پر مظاہرے پرتشدد ہوگئے۔ دکانوں میں لوٹ مار، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگائے جانے کے واقعات سامنے آئے۔ ان واقعات کے بعد امریکا، چین اور جرمنی سمیت متعدد ممالک نے فرانس میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہات جاری کیے۔

فرانسیسی حکام نے پیرس اور بعض دیگر شہروں میں جزوی کرفیو نافذ کیا، جبکہ وزیراعظم کے مطابق ضرورت پڑنے پر مزید علاقوں میں بھی رات کے وقت پابندیاں لگائی جائیں گی۔ پیرس میں بعض اہم مقامات پر عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ پولیس نے پٹرول اور گیس کے کین یا بوتلیں لے جانے پر بھی عارضی پابندی لگائی۔

فرانس کے ساتھ اٹلی میں بھی ایندھن کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ حکام میلان میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے 500 فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والی لوٹ مار اور ہنگاموں کے باعث متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ کئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے، لیکن شہروں میں تباہی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کی حکومت نابالغ مظاہرین کی حراست اور والدین کی ذمہ داری سے متعلق قوانین سخت کرنے کے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

فرانس اور اٹلی میں یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب دونوں ممالک کو مہنگائی، امن و امان اور عوامی بے چینی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ فرانس میں آئندہ ہفتے کے احتجاج کے دوران سکیورٹی انتظامات اور ممکنہ تشدد پر حکام کی توجہ مرکوز رہے گی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ