سعودی حکام نے بتایا ہے کہ بدھ کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ایک ایئرپورٹ اور تیل کی تنصیب پر الگ الگ حملوں کے نتیجے میں تین افراد جان سے چلے گئے جبکہ ایک پاکستانی سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔
حالیہ دنوں میں یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جن میں خاص طور پر ایئرپورٹس، شہری اور آئل تنصیبات شامل ہیں۔ ان میں ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جو کئی سال کے دوران مملکت کا سب سے زیادہ جان لیوا حملہ تھا۔
اس صورت حال میں امریکہ نے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
سعودی وزارت توانائی نے بدھ کو ایکس پر بتایا کہ آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ میں ایک پروسیسنگ تنصیب کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو کامیابی سے مار گرانے کے بعد گرنے والے ملبے سے دو افراد کی جان گئی اور دو زخمی ہو گئے۔
وزارت توانائی کے مطابق جان سے جانے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے ہے جبکہ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک انڈین شہری شامل ہے۔
#Statement | Air Defenses Intercept Drone Attempting to Target Shaybah Field; Two Residents Killed and Two Injured by Falling Debris. https://t.co/uCGxP8kEni
— وزارة الطاقة (@MoEnergy_Saudi) October 21, 2026
وزارت توانائی نے بتایا کہ واقعے کے نتیجے میں آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک کنٹریکٹر کی گاڑی میں آگ لگ گئی، جو تنصیب کے احاطے سے باہر تھی۔ مزید بتایا گیا کہ اس سے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔
جبکہ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے جمعرات کی صبح بتایا کہ بدھ کو دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک شخص جان سے گیا اور دیگر آٹھ زخمی ہو گئے۔
#Statement | An attack targeted King Fahd International Airport in Dammam. #GACA https://t.co/kRueeaQbSm
— هيئة الطيران المدني (@ksagaca) October 21, 2026
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم فوجی اتحاد نے جمعرات کی صبح بتایا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی فضا میں چار ڈرون مار گرائے گئے۔
اتحاد نے بتایا کہ بدھ کو مملکت کی جانب داغے گئے سات ڈرون روکے گئے، جن میں مدینہ کا وہ علاقہ بھی شامل ہے، جہاں مسجد نبوی واقع ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ ’مملکت کی جانب داغے گئے چار ڈرون روک کر تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے ایک دوسری پوسٹ میں مزید کہا کہ ڈرون روکنے کی یہ کارروائیاں سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور مدینہ میں کی گئیں۔
انہوں نے بعدازاں بتایا کہ مشرقی صوبے میں ہی ایک اور ڈرون بھی روکا گیا۔
اتحاد نے اعلان کیا کہ بدھ کی شام حوثیوں کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا چھٹا ڈرون اور مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا ساتواں ڈرون روک لیا گیا۔
امریکیوں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو بتایا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مسلسل جان لیوا حملوں کے پیش نظر امریکہ نے امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے شامل ہیں جن کے نتیجے میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا ہے اور سفری نظام میں شدید خلل پڑا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’محکمے کے اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کی حفاظت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
This is inaccurate. The U.S. Department of State issued an ordered departure for non-emergency U.S. government employees and their family members in Saudi Arabia only. Iranian-supported Houthis have increasingly engaged in hostilities against Saudi Arabia, including attacks on civilian airports and other critical infrastructure resulting in civilian casualties and severe travel disruptions. The safety and security of Department personnel and their families remain our highest priority, and we will continue to take all necessary steps to protect and support them.
— Tommy Pigott (@statedeptspox) October 21, 2026
مشرق وسطیٰ میں ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین سے بھی امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کے کچھ اہل خانہ کو واپس بلایا جا رہا ہے، لیکن ترجمان ٹومی پگوٹ نے اس بات پر زور دیا کہ بدھ کا حکم صرف سعودی عرب میں سفارت خانے کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کی روانگی کے لیے ہے۔

