لندن نائٹ کلب اسکینڈل، امریکی گلوکار کرس براؤن کو تین سال قید کا امکان

chris brown1793027095 0



امریکی گلوکار کرس براؤن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے جھگڑے کے مقدمے میں زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گلوکار نے 2023 میں پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں جھگڑے میں ملوث ہونے کا جرم تسلیم کرلیا تھا اور اب عدالت میں سزا سنائے جانے کا مرحلہ ہے۔

37 سالہ آر اینڈ بی گلوکار پیر کو ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ پہنچے۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق ان کی گاڑی سے باہر آنے پر چند حامیوں نے نعرے لگائے۔ کرس براؤن نے سیاہ ماسک، دھوپ کی عینک اور سیاہ ٹوپی پہن رکھی تھی، جبکہ ان کے لباس میں سیاہ چمڑے کی جیکٹ بھی شامل تھی۔

یہ مقدمہ فروری 2023 میں لندن کے متمول علاقے مے فیئر کے ’ٹیپ‘ نائٹ کلب میں ہونے والے جھگڑے سے متعلق ہے، جہاں موسیقی کے پروڈیوسر ابراہام ڈیاو کو مبینہ طور پر بوتل سے مارا گیا تھا۔ کرس براؤن نے ابتدا میں ڈیاو کو مارنے کی تردید کی تھی، تاہم استغاثہ کے مطابق کلب میں نصب نگرانی کے کیمروں میں ہجوم کے سامنے ہونے والا جھگڑا ریکارڈ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں کرس براؤن نے جھگڑے میں ملوث ہونے کے ایک الزام کا اعتراف کیا۔ اس کے بعد استغاثہ نے ان کے خلاف زیادہ سنگین الزامات، جن میں حملہ، شدید جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش اور جارحانہ ہتھیار رکھنے کے الزامات شامل تھے، واپس لے لیے۔ ان کے دوست اور ووکل کوچ اومولولو اکین لولو نے بھی جھگڑے میں ملوث ہونے کا جرم تسلیم کیا اور انہیں بھی سزا سنائی جانی ہے۔

واقعے کے بعد کرس براؤن برطانیہ سے چلے گئے تھے۔ مئی 2025 میں انہیں مانچسٹر کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ کنسرٹ کے لیے پہنچے تھے۔ بعدازاں انہیں 50 لاکھ پاؤنڈ ضمانت پر رہا کردیا گیا، جس کے بعد وہ گزشتہ موسمِ گرما میں یورپ اور شمالی امریکا میں اپنے دورے جاری رکھ سکے۔

کرس براؤن نے 2005 میں کم عمری ہی میں شہرت حاصل کی تھی۔ وہ بہترین آر اینڈ بی البم کے لیے دو گریمی ایوارڈ جیت چکے ہیں؛ پہلا 2011 میں ’فیم‘ اور دوسرا 2025 میں ’11:11 (ڈیلکس)‘ کے لیے ملا۔

ان کے کیریئر کو متعدد قانونی تنازعات کا بھی سامنا رہا ہے۔ 2009 میں گریمی ایوارڈز سے ایک روز قبل اس وقت کی ساتھی گلوکارہ ریحانہ پر حملے کے مقدمے میں انہیں جرم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی امریکا کی مختلف ریاستوں میں جھگڑوں سے متعلق واقعات پر وہ گرفتار ہوتے رہے۔ 2019 میں پیرس پولیس نے انہیں ریپ کے شبہے میں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تھی، تاہم بعد میں انہیں بغیر کسی الزام کے رہا کردیا گیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ